سرگرم سماجی کارکن گلالئی اسماعیل شخصی ضمانت پر رہا

پشتون تحفظ موومنٹ کی حمایتی سرگرم سماجی کارکن گلالئی اسماعیل کو لندن سے واپسی پر ایف آئی اے کے حکام نے پوچھ گچھ کی جس کے بعد انھیں حراست میں لے لیا گیا تھا لیکن چند گھنٹوں بعد انھیں شخصی ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔

بی بی سی کے نمائندے خدائے نور ناصر نے بتایا کہ گلالئی اسماعیل جمعے کو لندن سے واپس اسلام آباد پہنچی تھیں اور انھوں نے ہوائی اڈے سے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں انھیں اطلاع دی گئی ہے کہ ان کا نام ای سی ایل میں شامل ہے۔

انھوں نے رہائی کے بعد بی بی سی کے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ایک عرصے سے ان آوازوں کو دبانے کی کوشش کی جاتی ہے جو انسانی حقوق کے لیے جدوجہد کرتے ہیں لیکن میری آواز اس دباؤ سے نہیں ڈرے گی بلکہ مزید اونچی ہوگی۔‘

ایف آئی اے کے اہلکار گلالئی اسماعیل کو ہوائی اڈے سے اپنے ساتھ ہیڈکوارٹر لے گئے جہاں ان سے دو گھنٹے سے زیادہ عرصے تک پوچھ گچھ کی گئی۔

حکام کا کہنا ہے کہ ملزمہ کا نام ای سی ایل میں شامل کیا گیا تھا اور جمعے کے روز جب وہ لندن سے اسلام آباد پہنچی تو پہلے تو وہاں پر تعینات ایف آئی اے کے اہلکاروں نے اُن سے پوچھ گچھ کرنے کے بعد رہا کردیا اور پھر اس کے بعد ملزمہ نے اپنے وطن واپس آنے اور ایف آئی اے حکام کی طرف سے پوچھ کچھ کرنے کے بارے میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کی۔

اس ٹویٹ کے بعد خیبر پختونخواہ صوبے کی پولیس کے حکام حرکت میں آئے اور اُنھوں نے اسلام آباد ائرپورٹ پر تعینات ایف آئی اے کے حکام سے رابطہ کرکے ملزمہ کو دوبارہ حراست میں لینے کی درخواست کی۔

ایف آئی اے کے حکام نے گلا لئی اسماعیل کو حراست میں لیکر اینٹی ہومین سمگلنگ سیل میں منتقل کردیا ہے ۔ ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ صوابی پولیس اسلام آباد پہنچ رہی ہے جس کے بعد ملزمہ کو پولیس کی تحویل میں دے دیا جائے گا۔

یہ مقدمہ رواں برس ستمبر میں صوابی میں پشتون تحفظ موومنٹ کے جلسے کے بعد درج کیا گیا تھا اور اس میں ان کے علاوہ رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ سمیت پی ٹی ایم کے متعدد حمایتی اور رہنما بھی نامزد ہیں۔