لاپتہ افراد کی رپورٹ طلب کر رکھی ہے، اپنی قوم کو مایوس نہیں کرنا چاہتا، چیف جسٹس پاکستان

چیف جسٹس پاکستان کہتے ہیں کہ جو کچھ کیا انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کیا، عدلیہ کی نااہلی اور کرپشن بڑا مسئلہ ہے، ہمیں کھل کر اپنے گریبانوں میں جھانکنا پڑے گا، بے انصاف معاشرے میں کوئی بھی نہیں رہنا چاہے گا، ججر پوری ایمانداری سے فیصلے کریں، حکمران ذمہ داریاں پوری کریں تو عدلیہ کو مداخلت کی ضرورت نہیں پڑے گی، بحریہ ٹاؤن اور اومنی گروپ پیچھے بیٹھ کر حکومتیں چلاتے تھے، پس پردہ رہ کر کام

کرنیوالوں کی کوئی حیثیت نہیں رہ گئی۔


چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے لاہور میں وکلاء کے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے عدلیہ میں خرابیوں کا اعتراف کیا، بولے کہ قانون اور انصاف کا نظام بہتر بنانے کی ضرورت ہے، 1872ء کا قانون نہیں چلے گا، نئے قواین بنانے پڑیں گے، ذمہ داری پوری نہیں کریں گے تو فیصلوں میں تاخیر ہوگی جو انصاف کے نظام میں ناسور کی طرح ہے، ہمیں کھل کر اپنے گریبانوں میں جھانکنا پڑے گا، جب ہی ایک اچھا معاشرہ دے سکتے ہیں، عدلیہ کی نااہلی اور کرپشن بڑا مسئلہ ہے، میں پہلے اپنے گریبان میں جھانک رہا ہوں، سب سے بڑا نااہل میں خود ہوں، بے انصاف معاشرے میں کوئی بھی نہیں رہنا چاہے گا۔

ان کا کہنا ہے کہ ملک بڑے نصیب والوں کو ملتا ہے، پاکستان ہمیں کسی نے خیرات میں نہیں دیا، بڑی قربانیاں دے کر یہ ملک حاصل کیا گیا، کیا ہم اپنے ملک کی قدر کررہے ہیں؟، آج تعلیم کا معیار کیا ہے؟، ہم آج جو کچھ بھی ہیں اس ملک کی وجہ سے ہیں، معاشرے میں عدلیہ کا مقام ہے، اس کی عزت کریں۔

چیف جسٹس کہتے ہیں کہ کبھی آپ نے مجھ سے پوچھا بابا رحمتے کا کردار کیا ہے؟، بابا رحمتے کے پاس جاکر لوگ اپنا مسئلہ بیان کرتے تھے، بابا رحمتے خلاف فیصلہ بھی دیتا تو لوگ سر جھکا کر واپس آجاتے، آج معاشرے میں جھوٹ سرایت کرچکا ہے، ججر پوری ایمانداری سے فیصلے کریں، سب سے زیادہ تنخواہ لیتے ججز لیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کفر کا معاشرہ چل سکتا ہے ناانصافی نہیں چل سکتی، اس ملک نے آپ کو سب کچھ دیا ہے، آپ کو بھی اس ملک کو کچھ لوٹانا ہے، جو بندہ حق پر ہو اسے اگلی تاریخ ملنا موت کا دن ہے۔

وہ بولے کہ جو کچھ بھی کیا ملکی مفاد اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کیا، یہاں اوورسیز پاکستانیوں کی زمینوں پر قبضے ہوجاتے ہیں، ہم اوورسیز پاکستانی سے بھیک مانگنے چلے جاتے ہیں، پانی بیچنے والی کمپنیاں حکومت کو کیا دے رہی ہیں؟، ایک فلٹر پر پورا پلانٹ چل رہا ہے، منرل واٹر پانی مطلوبہ معیار پر پورا نہیں اترتا۔

تھر میں سندھ حکومت کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے جسس ثاقب نثار کا مزید کہنا ہے کہ تھر میں مرنے والے بچوں کو میں شہید کہوں گا، انہیں پوچھنے والا کوئی نہیں، تھر میں بچوں کی ہلاکت کا نوٹس لینا کیا انسانی ہمدردی نہیں؟۔

لاپتہ افراد سے متعلق چیف جسٹس کہتے ہیں کہ گمشدہ افراد کے ورثاء کو کون جواب دے گا، لاپتہ افراد کی رپورٹ طلب کر رکھی ہے، اپنی قوم کو مایوس نہیں کرنا چاہتا، بحریہ ٹاؤن اور اومنی گروپ پیچھے بیٹھ کر مل چلاتے تھے، پس پردہ رہ کر کام کرنے والوں کی کوئی حیثیت نہیں رہ گئی۔