جیسے گندم پنجاب کا حق ہے، ہمیں پہاڑوں کی معدنیات کا حق دیا جائے‘

منظور پشتین کا کہنا تھا کہ ’پنجاب کے ساتھ کسی بنیاد پر ہمیں کوئی تعصب نہیں لیکن معاشی استحصال کی وجہ سے ہمیں غلام بنے پر مجبور کیاجارہاہے جب کہ پنجاب کے عام شہریوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے۔‘

پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے سربراہ منظور پشتین نے اپنے گرفتار کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے بے گناہ کارکنان کو گرفتار کیا جا رہا ہے جبکہ احسان اللہ احسان کو رہا کر دیا گیا۔

خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ میں جلسے سے خطاب کے دوران منظور پشتین نے کہا: ’مجھے اس لیے گرفتار کیا گیا تھا کہ میں نے ایک جلسے میں تقریر کے دوران یہ باتیں کہی تھیں کہ جس ملک میں جس قوم کو فیصلے کا اختیار دیا جائے وہ حاکم ہوتی ہے اور جسے اپنے مستقبل کے فیصلوں کا اختیار نہ ہو وہ محکوم قوم ہوتی ہے۔ پاکستان میں آئین کے تحت پارلیمنٹ میں دوسرے صوبے کو 200 اور ہمیں 40 سیٹیں دی گئیں۔ ہمیں کبھی بھی دوتہائی اکثریت نہیں مل سکتی جس کی وجہ سے ہمیں
منظور پشتین نے کہا کہ ’کسی علاقے کے وسائل وہاں رہنے والوں کی زندگی گزارنے کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔ جس طرح پنجاب کی گندم پر وہاں کے لوگوں کا حق ہے اور آئین نے بھی ان کا حق ٹھہرایا ہے، جو ہمیں بھی منظور ہے، تو اسی طرح ہمارے پختونخوا کے پہاڑوں میں پائی جانے والی معدنیات، جنہیں ریاست کا حق قرار دیا جاتا ہے، ان معدنیات کا حق ہمیں دیا جائے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اسی طرح ہمارے دو ضلعوں لکی مروت اور کرک کی زرعی زمینیں پانی نہ ہونے کی وجہ سے بنجر پڑی ہوئی ہیں جبکہ ان کے پاس سے دریا بہتا ہے، پچھلے 40 سال سے وہاں کے لوگ پانی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اگر حکومت ان علاقوں میں پانی کا بندوبست کر دے تو پھر اس علاقے کے نوجوان ایف سی میں نوکری نہیں کریں گے، لیکن ریاست ہمارے ان علاقوں کے نوجوانوں کو ایف سی میں بھرتی کرکے دس ہزار تنخواہ کے عوض بلوچوں سے لڑا رہی ہے۔ حالانکہ بلوچوں نے بھی اپنے وسائل کے حصول کے لیے بندوق اٹھائی ہے اور بلوچستان کی گیس اور دوسرے وسائل پر پنجاب خوشحال ہو رہا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’پنجاب کے ساتھ کسی بنیاد پر ہمیں کوئی تعصب نہیں لیکن معاشی استحصال کی وجہ سے ہمیں غلام بنے پر مجبور کیا جا رہا ہے جب کہ پنجاب کے عام شہریوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے۔‘

منظور پشتین نے کہا کہ ’پی ٹی ایم کارکنان کو تکلیفیں دینے، جیل سے ڈرانے اور اپنا روزگار پیدا کرنے کی ترغیب دی جارہی ہے۔ اگر وہ ہمارے لیے روزگار کی فراہمی چاہتے ہیں تو ہمیں ہمارے وسائل کیوں نہیں دیتے؟ ہمیں قومی اتحاد اور اتفاق سے دور کیوں رکھنا چاہتے ہیں؟‘

منظور پشتین نے امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ’امن معاہدہ پائیدار ہونا چاہیے ایسا نہ ہو کہ ایک مرتبہ پھر افغانستان جنگ کا اڈہ بن جائے۔‘

منظور پشتین نے اپنے گرفتار کارکنان ملا بھرام، امیر پشتین، گیلامند، ذوالقرنین، قاسم اچکزئی اور اویس ابدال کی رہائی کامطالبہ بھی کیا جب کہ اس موقعے پر 29 مارچ کو کوئٹہ میں جلسہ کرنے کا بھی اعلان کیا۔

جلسے میں کثیر تعداد میں کارکنان نے شرکت کی، جہاں قومی اسمبلی کے ارکان محسن داوڑ، علی عزیر اور دیگررہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔