امریکی پابندیوں نے ’کمر توڑ‘ کر رکھ دی، ایرانی شہری

امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف سخت ترین پابندیوں نے ایک عام ایرانی شہری کی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔ ایرانی شہریوں کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں نے ان کی ’کمر توڑ‘ کر رکھ دی ہے۔


ان پابندیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والے اقتصادی دباؤ نے اسی ملین آبادی کے ملک ایران میں کسی سب وے میں فن کا مظاہرہ کرنے اور بدلے میں لوگوں کی جانب سے سکوں کی صورت انعام پانے والے فن کار سے لے کر دلہنوں کے خالی پرس تک، ہر شخص کو متاثر کیا ہے۔

بہت سے ایرانی شہری اس کا الزام صدر ٹرمپ اور ان کی ایران کے خلاف سخت پالیسیوں کو قرار دیتے ہیں۔ 2015ء میں ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان طے پانے والے جوہری معاہدے کے بعد حالات رفتہ رفتہ بہتری کی طرف بڑھ رہے تھے، تاہم گزشتہ برس ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے سے اخراج کا اعلان کر کے ایران کے خلاف دوبارہ پابندیاں نافذ کر دیں۔

حالیہ کچھ عرصے میں ایران کی جانب سے کئی بار یورپی طاقتوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ جوہری ڈیل بچانے کے لیے ایران کو مراعات دیں۔ تہران امریکی صدر کے اقدام کو ‘ایران کے خلاف اقتصادی جنگ‘ قرار دیتا ہے۔ حال ہی میں ایران کی جانب سے امریکی ڈرون طیارہ مار گرانے کے واقعے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ایران خطے میں موجود امریکی فورسز سے کسی بھی محاذ آرائی کے لیے تیار ہے۔

دوسری جانب اس واقعے کے بعد امریکا نے ایران کے خلاف مزید سخت پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم فقط ٹرمپ ہی نہیں کئی ایرانی شہری بھی اقتصادی ابتری کا الزام تہران حکومت پر عائد کرتے ہیں۔