خلیج عمان میں دو تیل بردار ٹینکروں پر حملہ

زرمبش مانیٹرنگ ڈیسک کو موصول ہونے والے اطلاعات کے مطابق جہاز رانی سے وابستہ ذرائع کا کہنا ہے کہ جمعرات کے روز خلیج اومان میں دو تیل بردار جہازوں پر مشتبہ حملوں کی اطلاعات ملی ہیں۔

میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز ذرائع کے مطابق حملے کا نشانہ بننے والے جہازوں سے عملے کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔ ایک ماہ قبل خطے میں ایسے ہی حملوں میں چار تیل بردار ٹینکروں کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

برطانوی بحریہ کے زیر انتظام یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے حملے سے متعلق انتباہ جاری کر دیا ہے، تاہم اس حملے کی تفصیل ابھی فراہم کی گئی کیونکہ حکام تفتیش کر رہے ہیں۔

بحرین میں تعینات پانچویں امریکی بحری فلیٹ کے ترجمان کمانڈر جوشوا فرے نے بتایا کہ فلیٹ کی کمان خطے میں رونما ہونے والے مبینہ واقعے سے آگاہ ہے، تاہم انھوں نے تفصیل بتانے سے گریز کیا۔ امریکی خبر رساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے مسٹر فرے کا کہنا تھا کہ ’’ہم تفصیلات حاصل کرنے کے لئے کام کر رہے ہیں۔‘‘

برطانوی خبر رساں ایجنسی ’’رائیٹرز‘‘ کے مطابق پانچویں امریکی بحری فلیٹ کو اومان کی سمندری حدود میں حملے کا نشانہ بننے والے دو جہازوں کی جانب سے پریشانی میں مدد کی درخواست موصول ہوئی۔ ایجنسی کے مطابق علاقے میں موجود امریکی بحری جہاز متاثرہ ٹینکروں کو مدد فراہم کر رہے ہیں۔

مذکورہ ٹینکروں کو جس جگہ نشانہ بنایا گیا ہے وہ آبنائے ہرمز کے قریب واقع ہے۔ اس مقام سے مشرق وسطیٰ سے دنیا کو تیل برآمد کرنے والے ملکوں کی پانچ فیصد پیداوار گذر کر عالمی منڈیوں تک جاتی ہے۔

ایران کے سرکاری ٹی وی کی ویب سائٹ نے ایران نواز لبنانی سیٹلایٹ ٹی وی ’’المیادین‘‘ کے حوالے سے بتایا ہے کہ خلیج اومان میں دو تیل بردار ٹینکروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ چینل نے اپنے دعوی کے ثبوت کے طور پر کوئی شہادت پیش نہیں کی۔ برطانوی گروپ کے مطابق تیل بردار جہازوں کو ایرانی ساحل سے 45 کلومیٹر دور نشانہ بنایا گیا۔

نقل وحمل کی تجارت سے متعلق جریدے ’’ٹریڈ ونڈز‘‘ نے نامعلوم ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ناروے کی ’فرنٹ لائن‘ کمپنی کے ملکیتی جہاز کو متحدہ عرب امارات کے علاقے الفجیرہ کے ساحل سے دور ٹارپیڈو سے نشانہ بنایا گیا۔

رائیٹرز نے حکام کے حوالے سے بتایا ہے ’کوکوکا کیرجز‘ کے کپتان اور عملے کو ریسکیو کشتیوں کے ذریعے جلتے جہاز سے نکال لیا گیا ہے۔ بحری جہاز آخری اطلاعات آنے تک خلیج اومان میں سمندر برد نہیں ہوا تھا۔

دوسری جانب ایران نے اومانی سمندر میں پیش آنے والے حادثے کے بعد 44 سیلرز کو بحفاظت نکال کر بندر جاسک نامی پورٹ پر پہنچا دیا ہے۔ خبر رساں ادارے رائیٹرز نے حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ ’کوکوکا کیرجز‘ سعودی عرب کے علاقے الجبیل سے سنگاپور میتھانول کارگو لے کر جا رہا تھا۔ جہاز پر لادا میتھانول کارگو محفوظ ہے۔