بھارتی عدالت کا ڈاکٹر ذاکر نائیک کی جائیدادیں ضبط کرنے کا حکم

بھارت کی عدالت نے نامور مذہبی اسکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک کی جائیداد ضبط کرنے کا حکم دے دیا ، فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ذاکر نائیک کے ممبئی میں چار فلیٹ اورایک دکان کو ضبط کیا جائے۔


خیال رہے بھارت میں ذاکر نائیک اور ساتھیوں سے100کروڑ کی سرمایہ کاری کی تحقیقات کی جارہی ہے۔

ذاکر نائیک کی این جی او پر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ بھارتی عدالت نے ذاکر نائیک پر جون2017 میں فردجرم عائد کی تھی۔

جولائی 2017 میں بھارتی حکومت نے معروف اسکالر ذاکر نائیک کے انڈین پاسپورٹ کو منسوخ کرتے ہوئے ملک میں داخلے پر پابندی لگا دی تھی۔

2016 میں بنگلہ دیش میں واقع ایک کیفے میں 7 حملہ آوروں نے حملہ کیا تھا، جس کے بعد کیس کی تحقیقات میں مبینہ طور پر یہ بات سامنے آئی تھی کہ 7 میں سے 2 دہشت گرد ذاکر نائیک کے خطابات سے متاثر تھے۔ جس کے بعد بھارت میں مذہبی اسکالر کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا گیا تھا۔

بھارت نے ڈاکٹر ذاکر نائیک کے ادارے پر الزامات عائد کیے تھے کہ اسلامک ریسرچ سینٹر سے ہونے والی تقاریر سے شدت پسند پیدا ہورہے ہیں، جس کے بعد اس ادارے پر 5 سال کی پابندی عائد کرتے ہوئے مبلغ ذاکر نائیک پر بھی پانچ سال کی پابندی عائد کی گئی تھی۔

بعد ازاں بھارتی حکومت کی مسلمان دشمن پالیسیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ذاکر نائیک نے سعودی عرب میں سکونت اختیار کی تاہم بعد ازاں سعودی حکومت کی جانب سے ذاکر نائیک کو مستقل سعودی شہریت دے دی گئی تھی۔

ذاکر نائیک ان دنوں مستقل رہائشی کے طور پر ملائیشیا میں مقیم ہیں۔