ریڈیو پروگرام : طالب علم رہنماء ’وہاب سیاھل ‘ جبرا لاپتہ | حکومتی سطح پر مثبت پیشرفت کے باوجود اس مہینے 25 لاپتہ افراد کے کیسسز رجسٹر کیے ‘ نصراللہ بلوچ

ڈاؤنلوڈ کریں | طالب علم رہنماء وہاب سیاھل جبرا لاپتہ

تاریخ نشر: 26 دسمبر 2019
پروگرام: خصوصی نشریات
عنوان : طالب علم رہنماء وہاب سیاھل لاپتہ | مثبت حکومتی اقدام کے باوجود اسی مہینے 25 افراد لاپتہ ہوئے ‘ نصراللہ بلوچ
مہمان: نصراللہ بلوچ ، وائس چیئرمین ، وائس فار بلوچ مسنگ پرسنسز
پیشکش : ریڈیوزرمبش
فایل سائز: 3.65 ایم بی
دورانیہ:00:08:35
وقت نشر : 10:00 صبح

پروگرام کا متن

بلوچستان کے مرکزی شہر شال (کوئٹہ) میں ڈگری کالج سریاب میں زیر تعلیم طالب علم ’وہاب ولد سیاھل‘ کو دو ہفتے قبل گوادر کے محلہ بلوچ وارڈ سے پاکستانی فورسز نے ایک اور نوجوان چراگ رشید کے ہمراہ ماورائے عدالت گرفتاری کے بعد جبری طور پر لاپتہ کیا۔ چراگ رشید کو دوسرے دن رہا کردیا گیا جب کہ وہاب تاحل پاکستانی فورسز کے نامعلوم قیدخانے میں ہے۔

وہاب سیاھل ڈگری کالج سریاب میں اکنامکس فائنل ائر کے طالب علم ہیں ۔ ان کے ایک قریبی رشتہ دار نے ریڈیو زرمبش کے رپورٹر سے بات کرتے ہوئے ان کے اغواء کی تصدیق کی ہے اور ساتھ ہی اس بات کی تصحیح بھی کی ہے کہ وہاب کے والد کا نام سیاھل ہے جسے شناختی دستاویز میں ’سیاھو‘ درج کیا گیا ہے ۔ واضح رہے کہ قبل ازیں سوشل میڈیا پر وہاب کے والد کا نام غلام محمد لکھا گیا تھا جو کہ ایک غلطی تھی۔

وہاب کا آبائی تعلق گوادر کے نواحی گاؤں ڈنڈوکلانچ سے ہے ، مگر ان کا گھرانہ بلوچ وارڈ گوادر میں رہائش پذیر ہے جہاں پاکستانی فورسز نے اسی مہینے چھاپہ مار کر انہیں اغواء کیا ۔ واقعے کی بروقت رپورٹنگ میں تاخیر کی وجوہات میں لوگوں میں خوف وہراس اور معاملے کوپاکستانی فورسز کے گماشتوں کے ذریعے حل کرنے کی امید شامل ہے ۔ اغواء کنندگان کے خاندان کو عموما اس آسرے میں رکھا جاتا ہے کہ ان کی طرف سے خاموشی اختیار کرنے پر متاثرہ شخص کی رہائی کے زیادہ امکانات ہیں ۔

ریڈیو زرمبش کے نیوزروم میں بلوچستان بھر سے روزانہ اس طرح کے کئی واقعات رپورٹ ہوتے ہیں جن میں معلوم اور نامعلوم لوگوں کی پاکستانی سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں اغواء نما گرفتاری کی خبر دی جاتی ہے ۔ مثال کے طور پر 11 دسمبر 2019 کو ھب چوکی سے ہمارے نامہ نگار نے یہ خبر دی کہ ’ 10 دسمبر کو ساکران روڈ پر قبرستان کے قریب ، مغرب سے ذرا پہلے دو کالے رنگ کی سرف گاڑیوں پر سوار آٹھ سے دس مسلحہ نقاب پوشوں نے ( جو یقینی طور پر پاکستانی خفیہ ادارے کے اہلکار تھے) ایک آدمی کو اُٹھایا جو وہاں ریڑھی بانوں سے سواد خرید رہے تھے۔‘

اس طرح کے واقعات جن میں ہمارے نامہ نگاروں کو مزید تفصیلات معلوم نہیں ہوپاتیں تقریبا روانہ ہوتے ہیں ان میں سے محض ایک آدھ واقعات کی ہی مکمل تفصیلات معلوم ہوپاتی ہیں ۔ بیشتر ایسے واقعات ہوتے ہیں جن میں لواحقین کی یہ درخواست ہوتی ہے کہ انہیں میڈیا پر نشر نہ کیا جائے ۔ ریڈیو زرمبش اکثر واقعات میں متعلقہ خاندان کی رائے کا احترام کرتے ہوئے مصدقہ اطلاع ہونے کے باوجود ایسی خبروں کو نشر نہیں کرتا۔ بلوچستان میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں لواحقین سے اصرار کرتی ہیں کہ وہ اس طرح کے واقعات کو میڈیا پر لے کرآئیں اور ان کے ادارے کو جبری طور پر لاپتہ افراد کے بارے میں بنیادی معلومات فراہم کریں ۔

اس بارے میں ہمارے رپورٹر نے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین نصراللہ بلوچ سے گفتگو کی اور جاننا چاہا کہ نئی حکومت میں جس کی’ بلوچستان نیشنل پارٹی ‘ بھی اس شرط پر اتحادی ہے کہ بلوچستان میں جبری طور پر لاپتہ افراد کا مسئلہ حل کیا جائے گا ، کیا اس اتحاد کے بعد صورتحال میں تبدیلی آئی ہے ؟ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی درخواست کی کہ ’آپ لاپتہ افراد کے لواحقین کی اس بارے میں رہنمائی کریں کہ وہ کس طرح زیادہ موثرانداز میں اپنے خاندان کے لاپتہ شخص کی بازیابی کے لیے کردار ادا کرسکتے ہیں ، کیا خاموش رہ کر بھی ایسا کیا جاسکتا ہے؟‘

ان سوالات کے جواب میں نصراللہ بلوچ کا کہنا تھا : ’ وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز ایک غیر سیاسی تنظیم ہے اورہم انسانی بنیادوں پر لاپتہ اافراد کے مسئلے پر کام کررہے ہیں ۔ جو بھی حکومت برسراقتدار آتی ہے ہم تنظیمی سطح پر اس کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں۔اس سے پہلے اسلم رئیسانی وزیراعلٰی تھے ، اور ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ سے بھی ہم نے لاپتہ افراد کے مسئلے پر بات چیت کی تھی تو ان کا کہنا تھا کہ ہم لاپتہ افراد کے مسئلے میں بے بس ہیں ، کچھ بھی نہیں کرسکتے ۔ ان کے ساتھ بارہا ہماری ملاقاتیں ہوئی ہیں ۔
اس کے بعد جب موجودہ حکومت اقتدار میں آئی تو ان کے ساتھ نومبر 2018 سے ہماری ملاقاتیں شروع ہوئیں اور تقریبا آٹھ آف دی رکارڈ ملاقاتیں ہوئی ہیں ۔ تو ان کی طرف سے ہمیں کہا گیا کہ ان کیسسز کو کمیشن کو بھیجیں گے اور اگر آپ چاہئیں تو کمیٹی بھی بنائیں گے ۔ان ملاقاتوں میں شامل لواحقین کی مشاورت سے ہماری تنظیم نے یہ موقف اپنایا کہ اگر ملک کے طاقتور ادارے اس مسئلے کے حل میں سنجیدہ ہیں اور لاپتہ افراد کی بازیابی چاہتے ہیں تو ہم حکومت کے ساتھ مذاکرات کریں گے۔ اس حوالے سے بلوچستان حکومت کی کابینہ نے ہمیں یہ یقین دہانی کرائی کہ آپ ہمیں لاپتہ افراد کی جو فہرست دیں گے ہم اسے کابینہ سے منظور کرواکے ، وزیراعلی جام کمال کو دیں گے جو اس پر وزیراعظم پاکستان اور آرمی چیف سے بات کرئے گا اور ان سے جواب مانگے گا۔‘

انہوں نے مزید کہا ’ اس حوالے سے جام کمال نے جاکر وہاں پاکستانی وزیراعظم اور دیگر اداروں سے بات کی تھی ۔ اس کے بعد ہماری آٹھویں ملاقات وزیراعلی سیکٹریٹ میں ہوئی تھی ، جو ایک طویل نشست تھی ۔جس میں انہوں نے کہا تھا کہ میں نے وہاں پاکستانی وزیراعظم اور دیگر اداروں سے بات کی ہے ۔ انہوں نے ہدایت کی ہے کہ وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے نمائندگان کو ساتھ بٹھاؤ اور وہ لاپتہ افراد کی جس فہرست کی تصدیق کریں گے اس پر عملدرامد ہوگا ۔اس کے بعد مثبت پیشرفت ہوئی جو لوگ کئی سالوں سے لاپتہ تھے وہ بازیاب ہونا شروع ہوئے ۔ہمارے ان سے یہی مطالبات تھے کہ اگر لاپتہ افراد پر کوئی الزام ہے تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے ، جنہیں دوران حراست شہید کیا گیا ہے ان کے خاندان کو بتایا جائےاور جو پرانے لاپتہ افراد ہیں ان کو بازیاب کیا جائے۔ اس پر جام کمال نے ہمیں یقین دہانی کرائی کہ ہماری کوشش ہوگی جو پرانے کیسسز ہیں ہم ان پر کام کریں جو کہ پیچیدہ ہیں کیوں کہ لوگ کافی عرصے سے لاپتہ ہیں ہم کوشش کریں گے کہ ان کی بازیابی میں کردار ادا کریں ‘

نصراللہ بلوچ کے مطابق اس حکومتی یقین دہانی کے بعد لوگ بازیاب ہونا شروع ہوئے۔انہوں نے اس پر اطمینان اظہار کرتے ہوئے کہا : ’ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اس حکومت میں لاپتہ افراد کے حوالے سے عملی اقدام اُٹھائے گئے ہیں۔ ہماری طرف سے یہ بھی مطالبہ تھا کہ جن کو اُٹھایا جائے گا قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اُٹھایا جائے گا اور ان کے خلاف جو بھی الزامات ہیں انہیں عدالت میں پیش کیا جائے گا ۔ ہم نے یہ مطالبہ بھی ان کے سامنے رکھا کہ تحفظ پاکستان آرڈیننس کو ہم نہیں مانتے یہ ایک کالاقانون ہے اگر آپ پھر بھی لاپتہ افراد کا مسئلہ اس کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں ہم آُپ سے تعاون کریں گے ۔ تحفظ پاکستان آرڈیننس میں ایک شق ہے کہ جس کو اُٹھایا جائے گا اس کے خاندان کو بتایا جائے گا کہ وہ اس ادارے کی حراست میں ہے اور اس پر یہ الزامات ہیں ۔ حکومت نے اس نکتے پر بھی ہمارے ساتھ اتفاق کیا ۔‘

انہوں نے لاپتہ افراد کی بازیابی کی کوششوں میں ان کے ورثاء کے کردار کو کلیدی قرار دیتے ہوئے کہا:’ جب تک لواحیقن ثبوت کے ساتھ خود سامنے نہیں آئیں گے اس وقت تک انصاف کی فراہمی کے لیے بنائے گئے ادارے ، ہماری تنظیم اور انسانی حقوق کے دیگر ادارے ، لاپتہ افراد کے معاملے پر کوئی قانونی کارروائی نہیں کرسکیں گے۔اس حوالے سے میں ایک مثال دینا چاہتا ہوں ۔ لواحقین ہمارے پاس آئے تھے ۔ ہم تنظیمی سطح پر 2012 میں لاپتہ افراد کے کیسسز سپریم کورٹ لے گئے وہاں ہر کچھ لواحقین نے ہمارے ساتھ تعاون نہیں کیا اور سپریم کورٹ کے سامنے پیش نہیں ہوئے ۔ تو سات آٹھ شنوائی کے بعد ان مقدمات کو خارج کردیا گیا۔ میری گزارش یہی ہے کہ لاپتہ افراد کے جو ورثاء ہیں وہ تنظیم کے ساتھ تعاون کریں اور تنظیم کا جو ایک پروفارمہ ہے وہ بھر کے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کو بھیجیں کو دیں تاکہ تنظیم قانونی طریقے سے ان کیسسز کی پیروی کرسکے ۔‘

لاپتہ افراد کے حوالے سے حکومتی اقدامات کومثبت اور اطمینان بخش قرار دینے کے باوجود نصراللہ بلوچ نے کہا ’ ہماری تنظیم نے صرف اسی ایک مہینے 25 سے زائد لاپتہ افراد کے کیسسز رجسٹر کیے ہیں۔‘