میرا جگری دوست؟ » قاضی ریحان کا واجہ محمدحسین پرریڈیو خاکہ

ڈاونلوڈ | میرا جگری دوست

تاریخ نشر: 12 اکتوبر 2019
تحریراور آواز: قاضی داد محمد ریحان
عنوان : میراجگری دوست : واجہ محمد حسین پر قاضی ریحان کا ریڈیو خاکہ
پیشکش : ریڈیوزرمبش
بیک گراونڈ موسیقی: Tears Wont Stop
موسیقی بشکریہ: fesliyanstudios.com
فایل سائز: 4.2 ایم بی
دورانیہ:00:10:25
وقت نشر : 10:00 شب

پروگرام کا متن

میراجگری دوست

تحریر:قاضی ریحان

ہم دونوں میں رفاقت بی این ایم کے دو ہزار آٹھ کے سیشن سے تھی ، پھر ہم دونوں سینٹرل کمیٹی میں آگئے ۔ ان کے ساتھ ہماری دوستی میں عمر کا فرق کبھی رکاوٹ نہیں بنا۔ میرے دوست بھی بڑھاپے کو صرف نمبر سمجھتے تھے ۔ ہم اپنی دوستی کا تعارف ایک بلوچی مزاحیہ ویڈیو خاکے کے اس جملے سے کرتے تھے کہ ’ ما دوئیں کوھنیں سنگت اِیں ۔‘‘ یعنی ہم پرانے دوست ہیں ۔ دراصل بی این ایم کے دوہزار چودہ کے سیشن میں ہماری دوستی سیشن میں شریک نئے دوستوں کی نسبت پرانی تھی ، جس کا اظہارہم اسی جملے کے ساتھ کرتے تھے ۔ مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ بی این ایم کے کئی سینئر ساتھیوں کے ساتھ میری رفاقت نظریاتی وابستگیوں کے علاوہ یارانہ قسم کی رہی ہے ۔ میں واجہ گوس بھار کو گوس کہہ کر پکارتا تھا اور ہم بلاتکلف ایک دوسرے کو مخاطب کرتے تھے ۔ یہی تعلق میرا واجہ حسین کے ساتھ بھی تھا ۔

واجہ حسین نے بلوچی قومی تحریک کے لیے جومثالیں قربانی دی ہیں وہ بلوچ سیاست کی تاریخ میں سنہرے الفاظ سے لکھنی چاہئیں ۔ پیرانسالی میں آپ جب تک صاحب فراش نہ ہوئے بلوچ نیشنل موومنٹ کی سیاسی سرگرمیوں میں شریک ہوتے رہے ۔ دوہزارچودہ کا سیشن انتہائی مشکل حالات میں منعقد کیا گیا تھا ۔ بلوچستان کی دشوار گزار وادیوں میں ایک تھکا دینے والے سفر کی مسافت پر سیشن کے انتظامات کیے گئے تھے ۔ پانی سمیت ہرچیز کی کمی تھی ۔ لیکن سب سے زیادہ تکلیف دہ جاڑے کی ٹھٹرتی سرد راتیں تھیں ۔ دن جیسے تیسے گزرتے لیکن جوں ہی رات کی سیاہی اپنے پر پھیلاتی سَردی اپنے جوبن پرہوتی۔ ایسا گمان ہوتا تھا کہ جیسے ہمارے کپڑے پانی میں بھگوئے ہوئے ہوں ۔ وہاں بھی واجہ گوس بھار اور دیگر چند بزرگوں کے ہمراہ واجہ حسین بھی موجود تھے جو ان کی پارٹی کے ساتھ گہری وابستگی کا اظہار تھا ۔ میں اکثر انہی کے ساتھ کھانا کھاتا ، اکھٹے گھومتے اور مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال کرتے۔ واجہ محمدحسین کی شخصیت میں بظاہر ایسی کوئی خاص بات نہیں تھی اور یہی ان کی شخصیت کی انفرادیت تھی کہ وہ اپنی قربانیوں اور گہری وابستگی کا ڈھول پیٹنے کی بجائے ، اسے اپنی قومی ذمہ داری سمجھتے تھے ۔ پارٹی کی گزشتہ سیشن میں انہیں الیکشن کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا کی اور میری خواہش پر مجھے کمیٹی کے اسسٹنٹ کی ذمہ داری سونپی گئی۔
واجہ محمدحسین ظاہری طور پر خود کو ہمیشہ فِٹ رکھنے کی کوشش کرتے تھے، بالوں کو اہتمام کے ساتھ رنگ لگاتے اورکلین شیو کرتے تھے۔ نئی فلموں کا دلدادہ میرے دوست سلمان خان کی فلمیں بھی بڑے شوق سے دیکھتے تھے اور اکثر نئی فلموں کا ذکر زندہ دلانہ انداز میں کرکے دوستوں کو اپنی شخصیت کی ظرافت سے خوش کرنے کی کوشش کرتے۔

آُپ سوچ رہے ہوں گے میں ان کے رہن سہن اور شکل و شباہت پر بات کررہا ہوں لیکن ان کی تحریکی خدمات کو نظرانداز کررہا ہوں ،دراصل تحریکی دوستوں کے تعلقات آُپس میں اتنے ہی گہرے ہوتے ہیں۔ تحریکی سرگرمیاں ترجیحی ہونے کے باوجود معمول کی زندگی کا حصہ ہیں ۔ تحریکی دوست اپنی یکساں سوچ ، ملتے جلتے مزاج اورمشترکہ مقصد کی وجہ سے عموما ایک جیسے کردار میں ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر شخصیت کا انفرادی پہلو ہی نمایاں ہوتے ہیں ۔ تلخ زندگی اور شبانہ روز کھٹن جدوجہد کے دوران جب خود پر توجہ جاتی ہے تو ہم ان خوابوں کے بارے میں سوچتے ہیں جن کی تعبیر کے لیے ہم معمول کے حالات میں کوشش کرتے ۔ سوچیے اگر بلوچستان آزاد ہوتا ہے تو واجہ محمدحسین اپنی ریٹائرمنٹ کی زندگی کیسے گزارتے ۔ میں سوچوں تو تمپ میں عوام کو صحت مند تفریح فراہم کرنے کے لیے کوئی سینما کھولتے اورجب سلمان خان کوئی نئی فلم ریلیز ہوتی تو پہلا شو اپنے قریبی دوستوں کے ساتھ اگلی نشست پربیٹھ کر دیکھتے ۔ ان کی سینماء میں پرانی فلمیں لگتی ہیں نہیں کیوں کہ وہ مانتے تھے کہ پرانی فلمیں اب قصہ پارینہ بن چکی ہیں ، جدید ٹکنالوجی کے ساتھ بنائے جانے والی فلمیں اور ان کے گانے تفریحی لحاظ سے ماضی کی فلموں سے کئی بہتر ہیں ۔ دراصل فلموں کے حوالے سے ان کی یہ رائے ان کی ترقی پسندانہ سوچ ہی کے عکاس تھی ۔ انہوں نے اپنے کئی سیاسی دوستوں کی نسبت طویل زندگی پائی لیکن ماضی میں قید رہنے کی بجائے ہمیشہ آگے دیکھنے والوں میں سے تھے ۔

آج کے جہدکارجب اپنے کیمپس اور اطراف میں ساتھیوں کا جھرمٹ دیکھتے ہیں ، وسائل کے حوالے سے بھی بہتری نظر آتی ہے ماضی میں جب بلوچستان بالخصوص مکوران میں بی این ایم اور بی ایل ایف کی داغ بیل ڈالی گئی۔ نیشنل پارٹی کی کرپٹ سیاست سماج میں جڑ پکڑ چکی تھی اور سیاسی کارکنان بلوچستان کو بھول کر اپنا کیریئر بنانے میں لگے تھے۔مالک اور رزاق بگٹی کی درباری سیاست کی وجہ سے نوجوان انقلاب سے دل برداشتہ تھے ۔ دور دور تک ایسے آثار نہ تھے کہ بلوچ ایک مرتبہ پھر قوت پکڑ کر پاکستان کے خلاف نبرد آزما ہوں گے ۔ واجہ محمدحسین ان افراد میں صف اول پر تھے جنہوں نے تحریک کی آبیاری کے لیے مالی ، جانی اور اخلاقی قربانی دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑا۔ اولاد سے بڑھ کر کسی باپ کے لیے کوئی اثاثہ نہیں ہوتا ،اولاد کو محبت سے پال کر والدین بالخصوص باپ ان کے ذریعے اپنے ادھورے خواب پورے کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ ان کی تکمیل میں اپنی زندگی کو مکمل پاتا ہے لیکن واجہ محمدحسین نے اپنے فرزند بلوچوں قومی تحریک کے لیے وقف کردیئے ۔ ان کے جوان بیٹے محاذ پر کام آئے ، شاید یہی اُن کا ادھورا خواب تھا وہ اپنے ناتواں جسم کی وجہ سے محاذ پر نہ جاسکے تو انہوں نے اپنی زندگی بھر کی پونجھی اس خواب کی تعبیر میں لگا دی اور آج جب وہ جسمانی طور پر ہمارے درمیان نہیں تو اپنی تحریک پر سب کچھ لٹا کر گئے ہیں ۔

بلوچستان کے نامساعد حالات کی وجہ سے ہمارے درمیان رابطے ٹوٹ گئے تھے ، یا ہم اتنے اُلجھ گئے کہ ہمیں ایک دوسرے سے رابطہ کرنا کا فرصت نہیں ملتا ، عرصہ ہوا کہ میری ان سے بات نہیں ہوپائی تھی۔ بی بی گل نے مجھے ان کی بیماری کا بتایا تو مجھے انتہائی دکھ کا احساس ہوا میں یقینا ان کی زندگی کے آخری ایام میں ان کو دیکھنا ، سننا اور ان کو زندگی سے جڑا رکھنے میں اپنا دوستانہ کردار ادا کرنا چاہتا تھا لیکن حالات کے جبر ہیں کہ آج ہم دوست ایک دوسرے کی خوشی اور غم میں اکھٹے نہیں ہوسکتے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہم ایک دوسرے کو بھول گئے ہیں ، واجہ محمدحسین مجھے ہر لمحہ یاد آتے تھے ، ان کی دھیمی لہجے میں ظریفانہ گفتگو کی مٹھاس میری یاداشت میں اب بھی شہد گھولتی ہے۔ اور میں اسے کبھی بھی نہیں بھولوں گا ۔ محمدحسین جیسے سدابہار شخصیت مرتے بھی کیسے ہیں ان کی روح اپنی زندگی میں ہی کسی دوسرے جسم میں حلول کرجاتی ہے اور وہ بی بی گل کی صورت نا صرف مجسم زندہ ہیں بلکہ بلوچ قومی تحریک میں بھی اپنا متحرک کردار ادا کررہے ہیں۔ مجھے خوشی ہے کہ میرے دوست نے ایک تلخ ، کھٹن مگر سرفراز زندگی گزاری ہے ۔