طالبان اور افغان فوجیوں کی رہائی کا تبادلہ

زرمبش میڈیا سیل کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق افغانستان حکومت کی جانب سے 100 طالبان قیدی رہا کیے جانے کے بعد افغان طالبان نے بھی کابل انتظامیہ کے آج 20 قیدی قندہار میں رہا کرنے کا اعلان کیا ہے۔

افغان طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں بتایا آج امارت اسلامیہ افغانستان، کابل انتظامیہ کے 20 قیدیوں کو رہا کرے گی اور انہیں قندھار میں انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس (آئی آر سی آر) کے حوالے کیا جائے گا۔’

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب 8 اپریل کو کابل حکومت کی جانب سے افغان طالبان کے 100 قیدیوں کو رہا کیا گیا تھا۔

افغانستان کی نیشنل سکیورٹی کونسل کے ترجمان جاوید فیصل نے کہا ان قیدیوں کو افغانستان کے صدر اشرف غنی کے 11 مارچ کے احکامات کے روشنی میں رہا کیا گیا، جو افغانستان میں امن لانے اور کورونا وائرس پر قابو پانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

انہوں نے بتایا تھا کہ رہائی پانے والے قیدی اس فہرست کا حصہ ہیں جو طالبان کے تکنیکی وفد نے کابل میں افغانستان حکومت کے وفد کے ساتھ شیئر کی اور جو اجلاس میں بھی زیر بحث رہی تھی۔

ترجمان جاوید فیصل کا مزید کہنا تھا کہ ان رہا ہونے والے قیدیوں کی باقاعدہ جانچ پڑتال افغانستان کی نیشنل ڈائریکٹریٹ آف سیکورٹی (این ڈی ایس) نے کی ہے اور ان سے حلف لیا گیا ہے کہ وہ میدان جنگ میں دوبارہ نہیں جائیں گے۔ دوحہ میں طالبان کے دفتر کی جانب سے بھی افغانستان کی حکومت کو یہ یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ رہا ہونے والے افراد دوبارہ جنگ میں نہیں جائیں گے۔

29 فروری 2020 کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکہ اور افغان طالبان کے مابین ایک معاہدہ ہوا تھا، جس کے بعد یہ امید کی جارہی ہے کہ اس سے گذشتہ کئی برسوں سے شورش کے شکار ملک افغانستان میں امن کی راہیں کھلیں گی۔

اس معاہدے میں یہ طے پایا تھا کہ نہ صرف امریکہ مئی 2021 تک اپنی فوجوں کا انخلا کرے گا بلکہ افغان فریقین کے مابین مذاکرات سے پہلے ہزاروں قیدیوں کا تبادلہ بھی کیا جائے گا۔

اس مقصد کے لیے طالبان کا تین رکنی تکنیکی وفد 31 مارچ کو کابل گیا تھا تاکہ وہاں پر قیدیوں کی پہچان اور ان کی رہائی کے حوالے سے افغانستان حکومت کے ساتھ بات کر سکے۔

تاہم بعدازاں 7 اپریل کو طالبان نے قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے افغانستان حکومت کو غیر سنجیدہ قرار دے کر اپنے تکنیکی وفد کو واپس بلانے کا اعلان کیا تھا۔

دوسری جانب افغان حکومت نے موقف اپنایا تھا کہ قیدیوں کی رہائی کے معاملے میں طالبان جلد بازی کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور دس دنوں میں قیدی رہا کروانا چاہتے ہیں۔

لیکن پھر طالبان کی جانب سے تکنیکی وفد واپس بلانے کے ایک ہی دن بعد (8 اپریل کو) افغانستان حکومت نے 100 طالبان قیدیوں کو رہا کر دیا تھا۔