گوادر پانچ ستارہ ہوٹل پر فدائی حملہ،بی ایل اے کے فدائی حملوں کی تاریخ پر ریڈیو زرمبش کی خصوصی رپورٹ

(نوٹ : آج کے اس مضمون میں ادارہ کی جانب سے فدائی مجید بریگیڈ کو مجید بلوچ اول کے نام سے منسوب کیا گیا تھا. جس کو درست کی گئی ہے . درست یہ ہے کہ مجید بریگیڈ مجید بلوچ ثانی کے نام سے منسوب ہے. جس کے لئے ادارہ معذرت خواہ ہے)

آج ہم سب سے اہم ترین واقعہ جو کل سے دنیا بھر کے اخبارات کی شہہ سرخیوں اور ٹیلی ویژن کے اسکرین پر رہا ہے کی بات کرینگے ۔ بلوچستان کا شہہ رگ کہلائے جانے والا شہر گوادر پر بلوچ لبریشن آرمی کے فدائین کا حملہ۔

ابتدائی طور پر پاکستانی ٹیلی ویژن پر گوادر کے واحد فائیو اسٹار زیور پَرل کانٹینیٹل ہوٹل پر کچھ مشتبہ افراد کی موجودگی کی خبر چلی ۔ شام ڈھلے تک پاکستان سمیت دنیا بھر کے اہم نیوزچینلز پر اس خبر کو بریک کیا گیا ۔

بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیھند بلوچ نے ٹیوٹر پر اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے ۔ جیھند بلوچ کے مطابق یہ حملہ بی ایل اے کے مجید بریگیڈ کے فدائی کمانڈوز نے ہوٹل پر چینی حکام اور بیرونی سرمایہ کاروں کی موجودگی کی اطلاع پر کیا ۔

بلوچ لبریشن آرمی نے حملہ آوروں کی تصاویر بھی جاری کی ہیں جن کی تعداد چار ہے ۔ بی ایل اے کے فدائین میں مجیدبریگیڈ کے ھمل فتح بلوچ عرف حبیب ، اسد بلوچ عرف مِھراب ، منصب بلوچ عرف کریم اور کچکول بلوچ عرف کمانڈو شامل ہیں ۔

گزشتہ روز تک آخری اطلاعات کے مطابق اس وقت ہوٹل میں دس بڑے دھماکے ہوچکے ہیں اور فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے ۔ ہوٹل سے دھواں بھی اُٹھتا نظر آرہا ہے ۔ دس زخمیوں کو مقامی ہسپتال لایا گیا ہے۔ چوں کہ باتیل کی مشرقی چوٹی پر پی سی ہوٹل سے متصل پاکستان نیوی کا بیس ہے ۔ یقینا غیر ملکی زخمیوں کو نیوی کے ہاسپٹلز میں ہی ترجیحی بنیادوں پر طبی امداد دی جائے گی اور ہلاکتوں کی درست تعداد کو میڈیا کے نظروں سے چھپانے کے لیے بھی عموما زخمیوں کو فوجی ہسپتالوں میں لے جایا جاتا ہے ۔

بلوچستان کے کٹھ پتلی وزیرداخلہ ضیاء لانگو نے بی بی سی اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے حملہ آوروں کی تعداد تین بتائی جو کہ بی ایل اے کے بیان کے برعکس ہے ۔

ضیاء لانگو کے مطابق ” شام تین بجے مسلح حملہ آور ہوٹل میں داخل ہوئے تھے۔ ان کے داخل ہوتے ہی خطرے کی گھنٹی بجا دی گئی جس سے ہوٹل کو خالی کیا گیا لیکن اب بھِی وہاں کچھ لوگ موجود ہیں جن کے بارے میں ضیاء لانگو یقین کے ساتھ کچھ بھی نہیں بتا سکے تاہم انہوں نے پاکستانی فورسز کی طرف سے تین بلوچ سرمچاروں کو مارنے کا دعوی کیا ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ ہوٹل میں چینی شہریوں سمیت کوئی بھی غیر ملکی شہری موجود نہیں تھا۔

ضیا اللہ نے کہا کہ تاحال یہ معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ حملہ آور سمندر سے یا کس راستے سے ہوٹل پہنچے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں خود کش حملہ آوروں کے داخلے کے بارے میں اطلاعات تھیں لیکن گوادر میں کسی حملے کی اطلاع نہیں تھی۔

جبکہ آج بی ایل اے کہ رہنما و جنرل اسلم بلوچ کے قریبی ساتھی بشیر زیب بلوچ نے اپنے ٹوئیٹر پیغام میں کہا ہے کہ سی پیک سمیت کوئی بھی استحصالی منصوبہ بلوچ کی مرضی کے بغیر آگے نہیں بڑھے گا –

انہوں نےکہا کہ چائنا کو سمجھ لینا چاہیے کہ جب تک بلوچ نوجوان اپنی زندگی قربان کرنے کے لئے تیار ہیں تب تک سی پیک سمیت کوئی بھی استحصالی منصوبہ بلوچ کی مرضی و منشا کے بغیر پایہ تکمیل تک نہیں پہنچے گا ۔

آج دوسرے دن بھی گوادر ہوٹل میں جنگ کی اطلاعات ہیں بی بی سی اردو کے سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی آئی جی مکران منیر احمد راؤ کا کہنا تھا کہ فی الحال سرچ اور ریسکیو آپریشن جاری ہے کیونکہ حملہ آور ہوٹل میں موجود کسی نامعلوم مقام پر چھپے ہوئے ہیں۔

ان کے بقول ‘ہوٹل میں 100 سے زائد کمرے ہیں، ایک ایک کر کے چیک کرنے اور حملہ آوروں کو ڈھونڈنے میں وقت لگے گا۔’

واضع رہے ضلع گوادر کے موبائل اور انٹرنیٹ سروسز کل سے معطل کردیے گئے ہیں۔ جس کی وجہ معلومات تک رسائی حاصل کرنے میں کافی دشواریوں کا سامنا ہے۔

بی ایل اے مجید برگیڈ کیا ہے ؟

یہ بلوچ لبریشن آرمی کا اپنی نوعیت کا پہلا حملہ نہیں ہے ۔ بلوچ لبریشن آرمی کے مجید بریگیڈ نے اپنا پہلا حملہ 30 دسمبر 2011 کو کیا تھا ۔ جس میں اصل ٹارگٹ پاکستانی ڈیتھ اسکواڈ کا سرغنہ شفیق الرحمن مینگل تھا ، جو کہ بلوچستان میں قتل و غارت گری میں سرگرم رہا ہے ۔

اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے بی ایل اے کے اس وقت کے ترجمان میرک بلوچ کے مطابق’ان کی فدائی تنظیم مجید بریگیڈ کے ایک جوان درویش بلوچ نے شفیق مینگل کے مکان پر خودکش حملہ کیا تھا۔‘

ترجمان میرک بلوچ کے مطابق جمعہ کو ان کی فدائی تنظیم مجید بریگیڈ کی جانب سے پہلا خودکش حملہ تھا اور مستقبل میں بھی حملے کیے جائیں گے۔

مجید بریگیڈ کا نام شہید مجیدبلوچ ثانی کے نام پر رکھا گیا ہے . جب 17 مارچ 2010 کو کوئٹہ میں پاکستانی فورسز نے گھر پر چادر و چاردیواری کی پائمالی کرتے ہوئے مجید بلوچ ثانی کو گرفتار کرنے کی ناکام کوشش کی . تو مجید بلوچ ثانی نے گرفتاری دینے کے بجائے پاکستانی سیکورٹی فورسز کے ساتھ بہادرانہ لڑتے ہوئے جام شہادت نوش فرمائی تھی .

بی ایل اے کی طرف سے مجیدبریگیڈ کا قیام اور فدائی حملوں کو ایک جنگی حکمت عملی کے طور پر اپنانے سے ایسا لگا کہ اب بلوچ تنظیمیں نپے تلے حملے نہیں کریں گی جنہیں نچھلی سطح کی انسرجنسی سمجھا جاتا ہے بلکہ اہم اہداف کے حصول کے لیے فدائی حملے بھی کیے جائیں گے لیکن لگ بھگ سات سال کے وقفے کے بعد بی ایل اے کے مجیدبریگیڈ نے اپنا دوسرا خودکش حملہ کیا جو پاکستان میں کام کرنے والے چینی انجینئرز پر کیا گیا ۔

اس وقت تک بی ایل اے اور بلوچ قومی تحریک میں کافی اتار چڑھاو آچکے تھے ۔ بی ایل اے دو گروپس میں تقسیم ہوچکی تھی بلوچ آزادی پسندوں میں بلوچ تحریک کے مستقبل کے حوالے سے خدشات جنم لے رہے تھے لیکن اس حملے کے بعد بین الاقوامی سطح پر بھی اور خود پاکستانی سیکورٹی ایجنسیوں نے بھی اس بات کو تسلیم کیا کہ بلوچ سرمچاروں اور بلوچستان میں جاری جنگ آزادی سے متعلق ان کی رائے غلط ہے ۔ پچھلے سال 11 اگست 2018 کو یہ حملہ کسی اور نے نہیں بلکہ بی ایل اے کے سربراہ شہید جنرل استاد اسلم بلوچ کے فرزند شہیدریحان بلوچ نے کیا تھا ۔ اس حملے سے جہاں پاکستان چین اکنامک کوریڈور کے سیکورٹی معاملات پر سوالیہ نشان لگائے گئے سات ہی بلوچ قوم کو بھی ایک واضح پیغام دیا گیا کہ یہ جنگ ایسے رہنماوں کے ہاتھ میں نہیں جو دوسروں سے قربانی کا تقاضا کرتے ہوں بلکہ بلوچ قومی تحریک کے رہنماء وہ لوگ ہیں جو قربانی دینے پر یقین رکھتے ہیں ۔ شہید جنرل استاد اسلم بلوچ اور ان کی اہلیہ لمہ یاسمین بلوچ نے اپنے سپوت ریحان بلوچ کی شہادت کا جشن منایا ۔ شہید جنرل استاد اسلم بلوچ کو چینی قونصل خانے پر حملے کے کچھ دن بعد پاکستانی انٹلی جنس نے اپنے ایک کرایے کے قاتل کے ذریعے خودکش حملہ سے قتل کروادیا ، شہیداسلم بلوچ کو بی ایل اے کے خودکش حملوں کا ماسٹرمائنڈ قراردیا گیا اور کچھ دیگر دعوں کے ذریعے پاکستانی سیکورٹی فورسز نے یہ دکھانے کی کوشش کی کہ وہ اب بلوچ سرمچاروں کا زور توڑ چکے ہیں ۔

لیکن بی ایل اے کے کل کے حملے نے ایک مرتبہ پھر پاکستانی سیکورٹی فورسز کے غرور کو خاک میں ملا دیا ۔ زیور پرل کانٹی نیٹل ہوٹل گوادر کے کسی عام مقام پر نہیں بلکہ کوہ باتیل کے انتہائی سیکورٹی زون میں واقع ہے ۔ کوہ باتیل پر خشکی کے راستے سے سواری کے ذریعے صرف ایک ہی راستہ ہے جہاں کئی چیک پوسٹس سے ہوکر گزرنا پڑتا ہے جب کہ پیدل جانے والے رستوں پر بھی سخت پہرے بٹھا دیئے گئے ہیں ۔ پی سی ہوٹل کے بغل میں پاکستان نیول بیس ہے ، جہاں پاکستان نیوی کی اجازت کے بغیر چڑیا بھی پر نہیں مار سکتی ۔ پی سی ہوٹل کے عین نیچے گوادر پورٹ ہے ، اطلاعات کے مطابق بلوچ سرمچاروں نے پی سی ہوٹل کے ایک حصے پر قبضے کے بعد گوادر پورٹ پر بھی راکٹ داغے ہیں ۔

بی ایل اے کے ترجمان جیھند بلوچ نے اس سلسلے کے اپنے ایک آخری بیان میں پورے واقعے کو سمیٹتے ہوئے چاروں بلوچ فدائین کی شہادت کو تسلیم کیا ہے ۔ ان کے مطابق بلوچ فدائین نے کئی غیرملکی سرمایہ کاروں کو ہلاک کیا ہے اور گوادر پورٹ کو بھی راکٹوں کے حملے سے شدید نقصان پہنچایا ہے ۔ بی ایل اے کے ترجمان کے مطابق اس حملے میں انہیں دو دیگر آزادی پسند مسلح تنظیم بی ایل ایف اور بی آر اے (بیبرگ) کی بھرپور مدد حاصل تھی ۔

واضح بی ایل اے کے گزشتہ روز کے بیان کے بعد آج بھی اطلاعات موصول ہورہی ہیں کہ گوادر میں جنگ جاری ہے۔

جبکہ دوسری جانب بی ایل اے میڈیا چینل نے مجید برگیڈ سربازوں کی ایک ویڈیو پیغام بھی جاری کی ہے۔

یہ حملہ گوادر کی جغرافیائی اور اقتصادی اہمیت کی وجہ سے بلوچ سرمچاروں کی ایک اہم ترین کامیابی ہے ۔ گوادر پورٹ کو سی پیک کا سر مانا جاتا ہے اور بلوچ قوم یہ سمجھتی ہے کہ گوادر میں ہونےو الی اقتصادی سرگرمیوں کی وجہ سے گوادر میں بلوچ قوم اقلیت میں بدل جائے گی ۔ پاکستانی اداروں کی طرف سے بھی اس خدشے پر کوئی سنجیدہ ردعمل نظر نہیں آتا اور نہ ہی گوادر کی زمینوں کے اونے پونے داموں غیرملکیوں کو فروخت کے حوالے سے کوئی قانون سازی کی گئی ہے جیسا کہ بھارت کے زیرانتظام کشمیر کو بھارت کے آئین میں یہ تحفظ دیا گیا ہے کہ وہاں کوئی دوسری ریاست کا شہری زمین نہیں خرید سکتا ۔ اس طرح کے کسی قانون کی غیرموجودگی میں گوادر کی بیشترزمینیں جعلی اسناد کے ذریعے بیچ دی گئی ہیں جو بلوچوں کے مستقبل کو ایک واضح تاریکی میں دھکیلنے کے مترادف ہے ۔ اس لیے گوادر ہمیشہ سے بلوچ سرمچاروں کے لیے اہم رہا ہے اور وہ یہاں پاکستانی تنصیبات اور مفادات پر تواتر کے ساتھ حملے کرتے رہتے ہیں ۔ ان حملوں کا مقصد بلوچ قومی مفادات کا تحفظ اور بلوچ کی مرضی کے بغیر بلوچستان میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو پیغام دینا ہے کہ جب تک بلوچ قوم کی مرضی شامل نہ ہو گوادر میں چین سمیت کسی بھِی بیرونی سرمایہ کار کی سرمایہ کاری محفوظ نہیں ہوگی ۔

پاکستانی فوج کا شمار دنیا کے چند بڑی فوجی طاقتوں میں ہوتا ہے جس کے پاس ایٹم بم سمیت کئی جدید ہتھِیار ہیں ، اس کے لیے وہ غیرروایتی ہتھیاروں ، مذہبی شدت پسندوں اور جراہم پیشہ افراد کا بھی اپنے اہداف کے لیے کھلا استعمال کرتا ہے ۔ بلوچ جیسی حالت میں قومیں اپنے سے طاقتور فوج کے ساتھ عموما غیرروایتی جنگ کا طریقہ اختیار کرتے ہیں جس میں دشمن کو یقنی نقصان دینے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ بی ایل اے کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہ بلوچستان کی واحد منظم تنظیم ہے جو اس طرح کے حملے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ بی ایل اے کے حملے جنگی تکنیک کے اعتبار سے پاکستانی انٹلی جنس اور سیکورٹی اداروں کو ہلا دیتے ہیں جن پر بین الاقوامی سطح پر بھی کافی بحث ہوتی ہے اور بلوچ سوال کو ایک اہم سوال کے طرح دیکھا جاتا ہے یوں بی ایل اے اپنے حملوں سے بیک وقت سیاسی اور عسکری اہداف حاصل کرلیتی ہے ۔ عموما اس طرح کے حملوں کی بھنک انٹلی جنس اداروں کو ملتی ہے لیکن پاکستانی حکام یہ تسلیم کررہے ہیں کہ ان کو اس متعلق کوئی خفیہ معلومات نہیں تھی کہ گوادر میں اس نوعیت کا حملہ ہوگا جو بی ایل اے کی تنظیمی اسٹرکچر کی مضبوطی کی ایک اور مثال ہے ۔