بلوچستان یونیورسٹی بلیک میلنگ اسکینڈل » مرکزی کردار آشکار | عدنان شالیزئی کی زرمبش سے تفصیلی گفتگو

ڈاونلوڈ کریں | بلوچستان یونیورسٹی بلیک میلنگ اسکینڈل

تاریخ نشر: 19 اکتوبر 2019
پروگرام: خصوصی نشریات
عنوان : بلوچستان یونیورسٹی بلیک میلنگ اسکینڈل
مہمان: عدنان شالیزئی ، سابق طلباء رہنماء بلوچستان یونیورسٹی
پیشکش : ریڈیوزرمبش
فایل سائز: 7.68 ایم بی
دورانیہ:00:17:26
وقت نشر : 11:00 شب

بلوچستان یونیورسٹی بلیک میلنگ اسکینڈل طلباء کو غیرسیاسی کرنے کی ایک سازش تھی ۔ طلباء رہنماوں کو بھٹکانے کے لیے باقاعدہ خوبرو عورتیں بھرتی کی گئیں جو طلباء رہنماوں کے ساتھ تعلقات قائم کرتیں اور پھر انہیں ان تعلقات کی بنیاد پر یونیورسٹی انتظامیہ بلیک میلنگ کا نشانہ بناتی۔ اس سازش میں ڈیپارٹمںٹ آف فارماسیٹیک کی اسسٹنٹ پروفیسر میجرماروی کا کلیدی کردار تھا جنہوں نے یواوبئین کے نام سے ایک تنظیم بنائی اس میں شامل طلبہ بیک وقت اس سازش کا شکار اور اس کی آلہ کار تھیں ۔

یہ انکشافات بلوچستان یونیورسٹی کے سابق طالب علم اور پختون اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے سابق رہنماء عدنان حسین شالیزئی نے ریڈیو زرمبش اردو سروس کے ایک خصوصی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔

ان کا کہنا تھا بلوچستان یونیورسٹی میں ترقی پسند اور قوم دوست طلباء کو لگام دینے اور ان کی سرگرمیوں کو محدود کرنے کے لیے مختلف تنظیمیں بنائی گئیں ، مختلف پروجیکٹس لاونچ کیے گئے ۔ مختلف کانفرنسسز کا انعقاد کیا جاتا ہے۔طلباء کو مراعات دے کر انہیں سیاسی سرگرمیوں سے دور کیا جاتا ہے۔ بلوچستان یونیورسٹی میں پہلے چار کینٹینز تھے جہاں طلباء اپنے فارغ اوقات میں سرکلز لگاتے تھے جنہیں صرف اس لیے بند کیا گیا تاکہ طلباء اپنی صحت مندانہ سرگرمیوں سے محروم ہوں۔

انہوں نے بتایا کہ میجر ماروی نامی ایک خاتون نے یو او بئین نام کی ایک تنظیم بنائی جس کے پیچھے ایک بڑا منصوبہ تھا جس کے ذریعے قوم دوست اور ترقی پسند طلباء کو لگام دینا مطلوب تھا۔یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے مختلف ٹورسز کا لالچ دے کر مختلف مراعات کے نام پر یہ تنظیم بنائی گئی اس میں لوگوں کو بھرتی کیا گیا۔ طلباء کو اپنے حقوق کی تحریک اور جائز مطالبات سے دور رکھنے کے لیے ویڈیوز بنائے گئے اور پھر انہیں بلیک میل کیا گیا ۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے کچھ لوگوں کو مراعات کے ذریعے خریدا ، کچھ کو بلیک میل کیا اور کچھ کو دھمکا کر انہیں صحت مند سیاسی سرگرمیوں سے دور رکھا۔

واضح رہے کہ زرمبش نے دیگر ذرائع سے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ڈیپارٹمںٹ آف فارماسیٹیک کی اسسٹنٹ پروفیسر مس ماروی نے یو او بیئن نام کی تنظیم کی داغ بیل 2015 میں ڈالی تھی جس کا اس اسکینڈل میں کلیدی کردار تھا۔ میجرماروی یا میڈم ماروی کے نام سے معروف یہ خاتون ایف آئی اے کی زیرتفشیش بھی ہیں۔یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹرجاویداقبال بھی اسی ڈیپارٹمنٹ کے سپروائزر ہیں۔

تفصیلات سننے کے لیے میڈیا پلیئر کو استعمال کریں یا پھر اس پروگرام بالا لنک سے ڈاونلوڈ بھی کرسکتے ہیں۔