جبری گمشدہ راشد حسین | سارین بلوچ کی خصوصی ریڈیو رپورٹ

ریڈیو پروگرام کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے کلک کریں

تمہیں‌ بتلاؤں‌ کیا زہر لمحے گزرے ، وہ ہر اک بات کے یاد آنے پر کیسے خُشک چشم نم ہوئے ، نہیں ممکن مگر تم روبرو آؤ کچھ پہر تم سے گفتگو ہو جائے.

تمہیں ڈھونڈا ہے ہر آدمِ نقش میں ہر نقش میں ایک تماشا ملا ہے ، وہ بے باک محبتیں عنایتیں، مسکراہٹ تم ملو تو بتاوں. نہیں ممکن مگر من باولا سوچے میں گمان کرو اور تم روبرو آجاو

نہ تم آوگے نہ میں اختتام انتظار کروں گی چلو کچھ طے کرتے ہیں صبح کے ستارے کو کہ جب میں پھنس کہی بھنور میں جاوں چمک کر رات میں رستہ دکھانا ،نہیں ممکن کم از کم میرے بس میں صدیوں کا سفر یوں تنہا بسر کرنا.

ناظرین جیسے کے آپ سب جانتے ہونگے انسانی حقوق کے کارکن راشد حسین بلوچ جسے 9 ماہ قبل 26 دسمبر 2018 کو متحدہ عرب امارت سے گرفتاری کے بعد لاپتہ کرنے اور چھ ماہ قید و بند میں رکھنے کے بعد پاکستان کے حوالے کردیا گیا تھا اور پاکستان میں اب جبری طور پر گمشدگی کو تین ماہ کا طویل عرصہ گزرنے کے باجود راشد حسین کو منظرے عام پر نہیں لایا گیا ہے راشد حسین کی جبری گمشدگی و پاکستان حوالگی کے خلاف برطانیہ سمیت یورپ اور دنیا کے مختلف ممالک میں بلوچ نیشنل موومنٹ اور رلیز راشد حسین کمیٹی کے جانب سے اماراتی سفارت خانے کے سامنے احتجاجی مظاہرے کئے گئے ان تمام احتجاجوں کے بعد بھی راشد حسین تاحال کسی نامعلوم زندان میں قید ہے۔

یوں تو پاکستان کے نام نہاد وزیر اعظم ہر فورم پر انسانی حقوق کا شور مچاتے ہیں پر راشد حسین کے لواحقین گزشتہ نو ماہ سے اپنے لخت جگر کے انتظار میں بیٹھے ہوئے ہیں انسانی حقوق کے کارکن متحدہ عرب امارات اور پاکستان میں طویل گمشدگی و غیر انسانی عمل کے خلاف راشد حسین کے والدہ کے جانب سے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے کیمپ میں احتجاج ریکارڈ کراچکی ہے تاہم اب راشد حسین کے لواحقین کی جانب سے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے 4 اکتوبر بروز جمعہ کو احتجاجی مظاہرہ کا اعلان کیا گیا ہے مظاہرے کے تفصیل اور راشد حسین کے کیس کے حوالے سے مزید جانتے ہیں انسانی حقوق کی کارکن راشد حسین کی ہمشیرہ فریدہ بلوچ سے.

فریدہ بلوچ : میں تمام انسانی حقوق کے کارکنان و تمام انسان دوست لوگوں سے اپیل کرتی ہوں کرتی ہوں کے وہ 4 اکتوبر بروز جمعہ صبح 11 بجے۔ کوئٹہ پریس کلب کے سامنے ہونے والے احتجاجی مظاہرے میں شامل ہوکر ہمارے ساتھ دیں اور ہمارے گھر کے چراغ کو بچانے لئے ہماری اواز بنیں جیسے کے اپ سب جانتے ہیں میرے بھائی کی گمشدگی کو آج 9 ماہ سے زائد ہوچکے ہیں 6 ماہ امارت میں لاپتہ رکھنے کے بعد تین ماہ سے طویل پاکستان کے کسی نامعلوم قید میں رکھا گیا ہے سی ڈی ٹی نے جو 3 جولائی 2019 کو راشد حسین کے واپسی کا دعوی کیا تھا اس دعوے کو بھی اب تین ماہ گزر چکے ہیں اور سی ڈی ٹی کے قانون کے مطابق کسی بھی قیدی کو تین ماہ کے اندر عدالت میں پیش کیا جاتا ہے . پر میرے بھائی کو کسی بھی عدالت میں پیش نہیں کیا جارہا جس کے خلاف ہم آنے والے جمعہ کو کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کررہے ہیں اور ہم امید کرتے ہیں میڈیا سمیت کوئٹہ کے تمام اقوام ہمارا ساتھ دیں‌ گے.