الجزائر : بدعنوانی کے الزام میں 5 ارب پتی گرفتار

الجزائزر کے ریاستی نشریاتی ادارے کا کہنا ہے کہ کرپشن کے خلاف تحقیقات میں ملک کے 5 ارب پتی کاروباری افراد کو حراست میںلیا گیا ہے جن میں سے کچھ سابق صدر عبدالعزیز بوتیفلیکا کے قریبی ساتھی ہیں۔


برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق نجی چینل النھار نے بتایا کہ گرفتاری کے بعد قانونی کارروائی کے تحت پانچوں افراد کو عدالت میں پیش کیا گیا۔

تاہم ابتدائی طور پر اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

گرفتار شدہ افراد میں شمالی افریقا کے امیر ترین بزنس مین مانے جانے والے ایصاد ربراب، جن کا کھانے پینےکی اشیا اور شوگر ریفائننگ میں ایک نام رکھتے ہیں شامل ہیں۔

ایساد ربراب سیوائٹل کمپنی کے چیئرمین ہیں، جو برازیل سے خام شکر درآمد کرتی ہے اور تیونس، لیبیا سمیت مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک میں سفید چینی برآمد کرتی ہے۔

اس کے علاوہ کونینیف خاندان سے تعلق رکھنے والے 4 افراد جو آپس میں بھائی بھی ہیں شامل ہیں۔

کونینیف خاندان ، عبدالعزیز بوتیفلیکا سے قریبی تعلقات ہیں، جنہوں نے الجزائر میں 20 سال حکومت کی۔

تاہم گرفتار شدہ افراد کی جانب سے ابتدائی طور پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔

خیال رہے کہ 3 ہفتے قبل فوج کے دباؤ اور نوجوانوں کی جانب سے مظاہروں کے بعد انہوں نے عہدہ چھوڑ دیا تھا۔

الجزائر کے آرمی چیف، لیفٹنٹ جنرلاحمد قائد صالح نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ ملک میں موجود حکمراں طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کے خلاف کرپشن کے جرم میں کارروائی کی جائے گی۔

دو روز قبل سرکاری نشریاتی ادارے نے بتایا تھا کہ الجزائر کی عدالت نے سابق وزیراعظم احمد اویحیٰ اور موجودہ وزیر خزانہ محمد لوکال کو بدعنوانی کے الزام کی تحقیقات میں طلب کیا تھا، دونوں افراد سابق صدر کے قریبی ساتھی ہیں۔

22 فروری سے الجزائر میں شروع ہونے والے مظاہرے زیادہ تر پرسکون رہے ہیں اور صدر کے استعفے کے بعد بھی مظاہرے جاری ہیں۔

مظاہرین کی جانب سے 1962 میں فرانس سے آزادی حاصل کرنے کے بعد سے ملک پر حکومت کرنے والے افراد کے استعفے اور بدعنوانی میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔

صدر کے استعفے کے بعد سے آئین کے مطابق ایوان بالا کے اسپیکر عبدالقادر بن صلاح 90 روز کے لیے قائم مقام صدر کے عہدے پر تعینات ہیں جبکہ 4 جولائی کو ملک میں صدارتی انتخابات منعقد ہوں گے۔

19 اپریل کو بھی ہزاروں افراد نے مظاہروں میں عبدالقادر بن صلاح اور دیگر افراد کے استعفے کا مطالبہ کیا تھا۔

عبدالقادر بن صلاح نے انتخابات سے متعلق تبادلہ خیال کے لیے سیاسی جماعتوں اور سماجی کارکنان کو دعوت دی تھی لیکن اکثر جماعتوں اور سماجی کارکنان نے شرکت سے انکار کردیا۔