سری لنکا میں ایمرجنسی نافذ، حملوں میں غیرملکی نیٹ ورک ملوث ہونے کا الزام

سری لنکا نے گرجا گھروں اور ہوٹلز میں ہونے والے ہولناک بم دھماکوں کے بعد ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے اور ساتھ ہی بین الاقوامی نیٹ ورک پر حملوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔

خبررساں اداروں کی رپورٹ کے مطابق صدارتی آفس سے جاری بیان کے مطابق ایمرجنسی قانون کا اطلاق آج (22 اپریل ) کی شب سے ہوگا، جو پولیس اور فوج کو عدالتی احکامات کے بغیر مشتبہ افراد کو حراست میں لینے اور ان سے تفتیش کرنے کا اختیار دیتا ہے، اس

اس کے ساتھ ہی حکومت نے رات کے اوقات میں کرفیو نافذ کرنے کا اعلان بھی کیا جس کا اطلاق مقامی وقت کے مطابق رات 8 بجے ہوگا۔

گزشتہ روز سری لنکا میں ایسٹر کی تقریبات کے دوران گرجا گھروں اور ہوٹلز میں ہونے والے 8 بم دھماکوں میں 290 افراد ہلاک اور 5 سو زخمی ہوئے تھے۔

دھماکوں کے پیشِ نظر سری لنکا کا دارالحکومت کولمبو آج تناؤ کا شکار تھا۔

حملوں کی تحقیقات سے متعلق پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں کولمبو بس اڈے سے 87 بم ڈیٹونیٹرز ملے ہیں۔

اپنے بیان میں پولیس کو بستیان مواتھا نجی بس اسٹینڈ سے ڈیٹونیٹرز ملے جن میں سے 12 زمین پر اور 75 قریبی کچرے کے ڈھیر سے پائے گئے۔

پولیس نے بتایا کہ انہوں نے 24 افراد کو گرفتار کیا تھا اور تمام افراد سری لنکا کے شہری تھے، انہوں نے مزید تفصیلات نہیں دیں۔

تفتیش کاروں کا کہنا ہےکہ حملوں میں 7 خودکش بمباروں کے ملوث ہونے کا انکشاف کیا جبکہ حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ حملوں میں ایک بین الاقوامی نیٹ ورک ملوث تھا۔

حکومت کے فارنزک ڈویژن کے سینئر عہدیدار آریا نندا ولیندا نے بتایا کہ 2 خودکش بمباروں نے خود کو شانگری-لا ہوٹل میں دھماکے سے اڑایا، دیگر نے 3 چرچوں اور 2 ہوٹلز کو نشانہ بنایا۔

کولمبو میں چوتھے ہوٹل اور ایک گھر کو بھی نشانہ بنایا گیا لیکن ابتدائی طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا کہ یہ حملے کیسےکیے گئے۔

آریا نندا ولیندا نے کہا کہ ’ تحقیقات تاحال جاری ہیں‘۔