سری لنکا میں ایسٹر کے دن قیامت کس نے مچائی؟

سری لنکا کی حکومت کے مطابق ایسٹر سنڈے کے موقع پر ہونے والے دہشت گردانہ حملوں میں ایک مقامی شدت پسند تنظیم ’نیشنل توحید جماعت‘ ملوث ہے۔ مگر کیا یہ غیر معروف تنظیم اتنے منظم حملوں کی صلاحیت رکھتی ہے؟


سری لنکا کی حکومت کے ترجمان راجیتھا سینا رتنے نے کہا ہے کہ ایسٹر سنڈے کے موقع پر ہونے والے دہشت گردانہ حملوں میں مبینہ طور پر مقامی شدت پسند تنظیم نیشنل توحید جماعت ملوث ہے۔ ان کا تاہم کہنا تھا کہ تفتیش کار ان حملوں کے لیے اس شدت پسند تنظیم کو ملنے والی ممکنہ بین الاقوامی مدد کی چھان بین کر رہے ہیں۔

ان حملوں کے بعد سے اب تک 24 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، تاہم مذہبی اور نسلی تناؤ کے خدشات کے پیش نظر گرفتار شدگان کے حوالے سے تفصیلات اب تک جاری نہیں کی گئی ہیں۔

نیشنل توحید جماعت ایک غیر معروف جماعت ہے، تاہم خبر رساں ادارے اے ایف پی نے کچھ دستاویز کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ سری لنکا کے پولیس سربراہ نے گیارہ اپریل کو ایک انتباہ جاری کیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ ایک ’غیرملکی خفیہ ادارے‘ سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق یہ تنظیم ملک کے مختلف گرجاگھروں اور بھارتی ہائی کمیشن کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ اس سے قبل یہ شدت پسند تنظیم بدھ مت کے مقدس بتوں پر حملوں میں ملوث رہی ہے۔

سینا رتنے کا مزید کہنا تھا، ’’ہم نہیں سمجھتے کہ سری لنکا کی ایک چھوٹی سی تنظیم اس سطح کے بڑے حملے کر سکتی ہے۔‘‘

برسلز میں قائم ساؤتھ ایشیا ڈیموکریٹک فورم کے جنوبی ایشائی امور کے ماہر زیگفریڈ او وولف نے سے بات چیت میں کہا، ’’ہم نیشنل توحید جماعت کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے، مگر لگتا یوں کہ یہ تنظیم القاعدہ سے متاثر ہے۔‘‘

او وولف کا مزید کہنا تھا، ’’اس تنظیم کا بنیادی ہدف جہادی نظریات کا فروغ اور خوف و نفرت پیدا کرنا ہے۔ یہ تنظیم قومی مفاہمت کے بھی خلاف ہے اور ملک میں مذہبی اور نسلی تنازعات زندہ رکھنے میں سرگرم رہی ہے۔‘‘