اومان کے فرمانروا سلطان قابوس وفات پاگئے

خلیجی ریاست سلطنت اومان کے فرمانروا سلطان قابوس بن سعید آج ہفتے کے روز وفات گئے۔ مرحوم کچھ عرصے سے صاحب فراش تھے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سلطنت اومان کے صدر دفتر سے جاری ایک بیان میں ہفتے کو علی الصباح سلطان بن قابوس بن سعید کی وفات کا اعلان کیا گیا۔ اس کے بعد اومان کی سرکاری نیوز ایجنسی اور سرکاری ٹیلی ویژن چینل پر بھی ان کی وفات کی خبر نشر کی گئی ہے۔

سلطان قابوس بن سعید کی وفات کے بعد ملک میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے جب کہ آئندہ 40 دن تک سلطان کے سانحہ ارتحال پر ملک کا پرچم سرنگوں رہے گا۔
شاہی دیوان کی طرف سے جاری بیان میں مرحوم سلطان قابوس کی ملک وقوم کے لیے شاندار خدمات پر انہیں خراج عقیدت پیش کیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ سلطان قابوس نے 50 سال تک ملک کی خدمت کی اور اسے ترقی کی معراج تک پہنچایا۔ وہ جمعہ اور ہفتے کی درمیانی شب خالق حقیقی سے جا ملے۔

سلطان قابوس کون تھے؟

سلطان قابوس بن سعید سلطنت اومان کے آل ابو سعید خاندان کے آٹھویں فرمانروا تھے۔ آل سعید خاندان نے سنہ 1741ء کو امام احمد بن سعید کے دور میں سلطنت قائم کی۔ سلطان قابوس اس سلسلے کی آٹھویں کڑی سمجھے جاتے تھے۔
سلطان قابوس 18 نومبر 1940ء کو ظفار گونری کے صلالہ شہر میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اومان ہی سے حاصل کی۔ سنہ 1960ء کو انہوں نے برطابوی شاہی ملٹری اکیڈمی’سنڈ ھیرسٹ’ میں شمولیت اختیار کی۔ اس کے بعد مغربی جرمنی میں برطانوی پیادہ فوج میں کچھ عرصہ تربیت حاصل کی۔
سنہ 1964ء میں وطن واپسی کے بعد انہوں نے اسلامی شرعی علوم، اسلامی تہذیب اور سلطنت کی تاریخ کے شعبے میں تعلیم حاصل کی۔
سلطان قابوس نے 23 جولائی 1970ء کو اقتدار سنبھالا۔ اس دوران انہوں نے ملک میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کیں۔ ان کی سیاسی، اقتصادی، عسکری، سماجی اور ثقافتی اصلاحات کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔
سماجی بہبود اور امن کے لیے علاقائی اور عالمی سطح پر ان کی خدمات پر انہیں کئی ایوارڈز بھی دئے گئے۔ سنہ 2007ء میں انہیں عالمی مفاہمتی مساعی کے اعتراف میں جواہر لعل نہرو ایوارڈ بھی دیا گیا جب کہ اس سے قبل سنہ 1998ء میں انہیں روسی بین الاقوامی اسمبلی کی طرف سے عالمی امن ایوارڈ جاری کیا تھا۔
انہیں سنہ 1971ء کو سعودی عرب کی طرف سے شاہ عبدالعزیز آل سعود ایوارڈ اور 2009ء میں کویت کے مبارک الکبیر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔