حالیہ مفاہمت ایک خالص فوجی نوعیت کا سمجھوتہ ہے ، سیاسی اور انتظامی امور پر آئندہ گفتگو ہوگی‘الدار خلیل

ترکی اور امریکا کے درمیان حالیہ مفاہمت جس کے نتیجے میں ترکی نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ کرد فورسز کے اںخلا کی شرط پر شمال مشرقی شام پر اپنی جارحیت روک دے گا ، اس مفاہمت پر شامی کردستان میں صف اول کے رہنماء الدار خلیل نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگریہ مفاہمت کامیاب رہی تو تو تمام امور پر آئندہ گفتگو ہوگی ۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ سمجھوتہ مکمل طور پر فوجی ہے اور بعد کے سیاسی اورانتظامی امور کے لحاظ سے کھلا معاہدہ ہے۔

ڈیموکریٹک سوسائٹی موومنٹ روجاوا کے ایگزیکٹیو کمیٹی کے ممبر الدار خلیل نے اپنے فیس بک اکاونٹ پر عربی میں اپنے بیان کا ایک لنک شیئر کیا ۔ جس میں کہا گیا ہے : خود نظمی بنیادوں پر شمال مشرقی شام کے علاقوں میں قائم انتظامیہ اپنے عہدوں پر جھوم نہیں رہی تھی بلکہ اس کی ساری سرگرمیاں شامی وحدت کے اندر تھیں ۔ تقسیم اور انتشار کوروکنا انتظامیہ کےکام کی واضح اور مستقل خصوصیات تھیں حتی کہ جب خودانتظامی بنیاد پر قائم انتظامیہ اپنے اہم اور طاقتور کردار تک پہنچا۔

ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ کی موجودگی اور اس کے اصولوں پر مستقل مزاجی کے پیش نظر کچھ عناصر نے الزام عائد کیا کہ شمال اور مشرقی شام کی صورتحا ل کسی بھی منصوبے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔ یقینا ہم ان منصوبوں کی بات کررہے ہیں جوماضی میں اور اب بھی شام کے تمام حصوں اور اس کی عوام کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں ۔ان کی نظر میں یہ انتظامیہ ان کے منصوبوں میں حائل ہے ، یہی وجہ تھی ہماری سرزمین پر مختلف طریقے سے حملے کیے گئے اور دھمکایا گیا ۔ جس کی تازہ ترین مثال آج سری کنیہ (رسال العین) ہے ، قبل ازین عفرین ، کوبانی اور بعد میں الجزیرہ کو نشانہ بنایا گیا ۔

انہوں نے ہمیشہ کی طرح اپنے بیان میں واضح کیا کہ ان کی انتظامیہ کا شامی قومی فریم ورک کے اندر رہ کر کام کرنا ایک مرحلے کا نتیجہ نہیں بلکہ اس پر ہمیشہ سے ان کا ایک وژن اور حکمت عملی رہی ہے۔ جمہوری خودانتظامی (ڈیموکریٹک سلیف منیجمنٹ)ایک شامی منصوبہ ہے ۔ انتظامیہ کا میکنزم شام کی وحدت کی حقیقی کوششوں کے منافی نہیں بلکہ مستقبل کے جمہوری شام کے لیے ایک اہم منصوبہ ہے ، جو شام کے لیے ضروری ہے ۔ شام کے اندرونی معاملات کے حل کے لیے مذاکرات ایک واضح اصول ہے ۔ جس کی مختلف جماعتوں کے ساتھ بات چیت سے تصدیق کی گئی ہے ۔

انہوں نے شامی فوج کی کرداکثریتی علاقے روجاوا میں پوزیشن سنبھالنے کے معاملے پر اس کو انتظامیہ کی ناکامی سے تعبیر کرنے کی بجائے اسے اپنی پالیسیوں سے ہم آہنگ قرار دیتے ہوئے کہا شامی فوج کی موجودگی ان کی ذمہ داری ہے کیوں کہ یہ شام کی سرحد ہے ۔ اس کی موجودگی خودنظمی بنیاد پر قائم انتظامیہ اور اس کے اداروں کے منافی نہیں۔ اس پیشرفت کا خودانتظامی علاقوں میں عوام کی زندگی اور شہریوں کے روزگار پر منفی اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔ یہ تمام شامیوں کی ذمہ داری بنتی ہے کیوں کہ شام کے شمالی علاقوں پر حملہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ ترکی کے حملے اور اس کے سنگین نتائج پر بات کی ہے ۔ اب یہ مرحلہ ہے کہ کس طرح اسے روکا جائے ۔پھر اگراس مفاہمت میں کامیابی ملتی ہے تو تمام امور اور معاملات پر گفتگو ہوگی ۔اس وقت یہ مکمل طور پرایک عسکری سمجھوتہ ہے اور بعد کے سیاسی اور انتظامی امور کے لحاظ سے کھلا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ اب ہم ترکی کے ایک خطرناک منصوبے کا سامنا کررہے ہیں جس کا مقصد بہت بڑا ہے اور اس سے بہت سارے منفی نتائج برامد ہورہے ہیں جو خطے کو واپس نکتہ آغاز پر لے جائیں گے ۔ جہاں افراتفری ، انتہاپسندی اور شام میں تفرقہ بازی کے علاوہ تنازعہ اور داخلی دشمنی کے لیے کھلی جگہ ہوگی ۔ اس کے لیے آج وہ شمالی اور مشرقی شام پر حملہ کررہا ہے ۔

اصل شراکت ترکش قبضہ گیر کو اپنی عوام کے خلاف جارحیت سے روکنا اور اسے عفرین کے تمام مقبوضہ علاقوں سے نکال باہر کرنا ہے۔ یہ شراکت شام میں ایک اہم مرحلے کی راہ کھولے گی جہاں شام میں حقیقی حل اور استحکام کی سمت پر بات کی جائے گی ۔ دوسری کی خواہش اور انتہاپسند جہادی قوتوں کو ناکامی سے دوچار کرئے گی ۔

خبری حوالہ : الدار خلیل فیس بک