لاپتہ بلوچوں کی بازیابی کے لئے قائم بھوک ہڑتالی کیمپ کو 3559 دن مکمل ہوگئے

لاپتہ بلوچوں کی بازیابی کے لئے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی جانب سے قائم بھوک ہڑتالی کیمپ کو 3559 دن مکمل ہوگئے۔ انسانی حقوق کے کارکن حمیدہ نور نے اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ کیمپ کا دورہ کرکے اظہار یکجہتی کی جبکہ بلوچستان کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے لاپتہ افراد کے لواحقین نے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیربلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں جو سیاسی صورتحال ہے اس سے کوئی بلوچ یا عالمی ادارے بے خبر نہیں ہے، ہر مہینے ہر دن بلوچ قوم کے لیے گِراں گزررہی ہے۔ بلوچ ہر وقت اپنے لاپتہ گمشدہ افراد کیلئے احتجاج کررہے ہیں لیکن پاکستانی فورسز کی تشدد میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے ۔ پہلے اغواء نما گرفتاریوں کے بعد تشدد زدہ لاشیں ویرانوں سے مل رہی تھی لیکن اب لوگوں کو اجتماعی قبروں میں دفنایا جارہا ہے قوی امکان ہے کہ یہ تمام دفنائیں جانے والی لاشیں بلوچ لاپتہ افراد کی ہے۔

ماما قدیر بلوچ اپنے احتجاجی کیمپ میں

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں فوجی کاروائیاں، اغواء نما گرفتاریاں اور مسخ شدہ لاشوں کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔ بلوچستان میں ایسے علاقے نہیں جو فوجی آپریشنوں کے زد میں نہیں ہے۔ مشکے گجلی میں فوجی آپریشن کی گئی جہاں گن شپ ہیلی کاپٹروں نے عام آبادیوں کو نشانہ بنایا اسی سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے آواران سے فورسز نے خواتین کو حراست بعد فوجی میں بند کردیا جبکہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں گھروں پر چھاپوں کا سلسلہ جاری ہے جہاں خواتین و بچوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے

خبری حوالہ:پریس ریلیز