بلوچستان یونیورسٹی میں سیکیورٹی کے نام پر طلباء و طالبات کی تذلیل قبول نہیں – بی ایس اے سی

بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ میں کہا کہ جامعہ بلوچستان میں اسٹوڈنٹس کو ذہنی کوفت میں مبتلا کرنے کیلئے انتظامیہ مختلف ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔ سیکیورٹی کے نام پر جامعہ کو سیکیورٹی حصار میں تبدیل کر دیا گیا ہے اور طلبہ کو جامعہ کے اندر جامہ تلاشی سمیت کہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔صوبے کا واحد تعلیمی ادارہ تعلیمی درسگاہ سے زیادہ سیکیورٹی قلعے کا منظر پیش کر رہی ہے جہاں ہر روز طلباء و طالبات کی تذلیل کی جاتی ہے۔

جامعہ بلوچستان میں ایسے مسائل موجود ہیں جو کہ حل طلب ہیں اور جن کا حل طلبہ و طالبات کے مستقبل کیلئے ایک امید ہے لیکن انتظامیہ تعلیمی مسائل کو حل کرنے کے بجائے ان مسائل کو مزید الجھاء رہے ہیں اور اس حوالے یونیورسٹی کے پروفیسرز، سیاسی پارٹیوں کی خاموشی بھی سوالیہ نشان ہے ۔

ترجمان نے مزید کہا کہ بلوچستان یونیورسٹی میں طلباء و طالبات کا ہاسٹل میں الائٹمنٹ نہ کرنا باعث تشویش ہے جس کی وجہ سے دور دراز کے طلباء و طالبات کو کئی مشکلات کا سامنا کر نا پڑ رہا ہے حالانکہ بی ایس پروگرام کے داخلوں کا عمل اکتوبر کے مہینے میں ختم ہو چکا ہے لیکن چھ مہینے گزرنے کے باوجود ہاسٹل کی سہولت نہ دینا انتظامیہ کی نااہلی کا واضح ثبوت ہے ۔

ترجمان نے اپنے بیان کے آخر میں کہا کہ حکومت بلوچستان، سیاسی پارٹیوں سمیت تمام طلباء تنظیموں کو چاہیے کہ وہ بلوچستان یونیورسٹی میں طلباء و طالبات کی سیکیورٹی کے نام پر ہونے والے تذلیلی عمل کوروکنے کیلئے اقدامات اٹھائیں تاکہ طلباء و طالبات بغیر کسی پریشانی، مشکلات اور ذہنی دباؤ کے اپنا تعلیم جاری رکھ سکے۔

یونیورسٹی انتظامیہ کو چاہیے کہ جلد از جلد بی ایس اور ماسٹر پورگرام کیلئے ہاسٹل الاٹمنٹ کا اعلان کرے بصورت دیگر اس حوالے سے انتظامیہ کی جانب سے غیر سنجیدگی اور مزید غفلت برداشت نہیں کرینگے ان مسائل کو لے کر ہماری تنظیم ہر فورم پر آواز اٹھائے گی۔

خبری حوالہ:پریس ریلیز