زیرحراست افراد کے اعضا نکالنے کے واقعا ت اور بی این ایم کا موقف، زرمبش نے تفصیلات حاصل کیں۔

(زرمبش خصوصی رپورٹ)

گہرام ولد بشام کا لاش گھر پہنچا کر پاکستانی فوج نے اپنے نگرانی میں دفنا دیا،یہ خبر گزشتہ دنوں میڈیا میں رپورٹ ہوا تو ہمارے نامہ نگار نے اس بارے میں مزید چھان بین کی تو معلوم ہوا کہ گہرام بلوچ کے سینہ چیرکر اعضاء نکالے گئے تھے۔

نامہ نگار کو مصدقہ علاقائی ذرائع سے موصول ہونے والے اطلاعات کے مطابق 22 فروری کو فورسز نے دیگر دو لوگوں کے ہمراہ گہرام بلوچ کوکیچ کے علاقے ہیرونک سے حراست میں لے کر لاپتہ کیا تھا دو دن بعد پاکستانی فوج نے اپنی گاڑی میں ان کی لاش ورثا کے حوالے کی۔

ہمارے نمائندے نے اس بارے میں علاقائی ذرائعوں سے تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ نوجوان گہرام بلوچ پیشے سے مزدور اور ایک انتہائی غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے جس وقت فورسز نے ان کے گھر پر چھاپہ لگایا تووہ بازار میں سودا سلف لینے گئے تھے، فورسز نے ان کے والد اور چھوٹے بھائی سے پوچھ تاچھ کے بعد گہرام کو بلانے کا کہا جب گہرام گھر پہنچے تو انہیں دیگر دوسگے بھائیوں کے ساتھ حراست میں لے کر قریبی کیمپ منتقل کیا گیا۔

زیر حراست قتل ہونے والے گہرام ولد بشام کا فائل فوٹو

اگلے روز ان دونوں بھائیوں کو انتہائی تشدد کے بعد نیم مردہ حالت میں چھوڑ دیا گیا لیکن گہرام کے نصیب میں یہ بھی نہ تھا بلکہ ان کی لاش فورسز نے اپنے ہی گاڑی میں گھر پہنچا دی۔

لاش گھر پہنچائی توگئی مگر فورسز نے کسی کو لاش دیکھنے کی اجازت نہ دی او ر فوراََ دفنانے کا حکم دیا ایک شخص نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کے ساتھ بتایا کہ’’اہلکارسرپر کھڑے تھے ان پر خون سوار تھا ہم لوگ خوف سے ہم کچھ کہہ نہیں سکے‘‘

اس شخص نے بتایا کہ ’’گہرام ولد بشام کاصرف چہرہ ظاہر تھا، باقی بدن ڈھکا ہوا تھا اورنعش سے خون بہہ رہاتھا لیکن دفناتے وقت ہم چوری چھپے جہاں تک دیکھ سکے، کا بدن چیراگیا تھا،سینہ خالی اوروزن نہ ہونے کے برابرتھا شائدان کے جسم کے تمام اعضاء نکالے گئے تھے‘‘

اس کے بعد کیا ہوا؟

ذرائع نے بتایا کہ فورسز نے گہرام ولد بشام کے اہلخانہ کو پانچ ہزار روپے نقد، ایک بوری آٹھا دیکر اس دھمکی کے ساتھ وہاں سے روانہ ہوگئے کہ اگر کسی نے زبان کھولی تو اس کا انجام اس سے بھی بُرا ہوگا۔

اس واقعے کے بعد ہیرونک جیسے علاقوں میں پہلے سے موجود خوف میں مزید شدت آگئی ہے،نہ میڈیا اور نہ ہی انسانی حقوق کے ادارے اس بارے میں کچھ کررہے ہیں لہٰذا فورسز مادر پدر آزاد ہیں اور جو بھی ان کے جی میں آتاہے،کر گزرتے ہیں۔

کیا گہرام بلوچ پہلا واقعہ ہے؟

بلوچستان میں لاپتہ افراد کے مسخ لاشوں کی برآمد گی بہت پرانا مسئلہ ہے 2008 سے یہ انسانی المیہ تسلسل کے ساتھ جاری ہے اور گزرتے وقت کے ساتھ اس میں اضافہ ہی ہوتا آرہا ہے۔

بلوچستان میں مسخ لاشوں کے علاوہ ایسے بہت سارے کیس سامنے آئے ہیں کہ فورسز کی حراست میں قید لوگوں کی اعضاء نکالنے کے بعد ان کی نعش پھینکی گئی ہو مارچ 2013کوکراچی سے بلوچ نیشنل موومنٹ کے نائب صد رشہید لالامنیر کے چچا زاد بھائی اور پارٹی لاپتہ کارکن عبدالرحمن اور ایک اور نوجوان زاہد پذیر بلوچ کے چیر پھاڑ کئی گئی لاش برآمد ہوئے۔ عبدالرحمٰن عارف کو 24فروری 2013کو حراست میں لے کر لاپتہ کیا گیا تھا،عبدالرحمٰن عارف اور زاہد بلوچ کے لاش کراچی کے علاقے ملیر میں پھینک دئے گئے تھے،ان دونوں کے سینے چھیرکر تمام اعضاء نکالے جاچکے تھے۔

عبدالرحمن عارف اور ایک اور نوجوان زاہد پذیر بلوچ کے چھیر پھاڑ کئی گئی لاش کراچی سے برآمد ہوئے۔

بلوچ نیشنل موومنٹ جھاؤ کے کارکن رفیق ولد روزی کی لاش 22فروری 2018 کو حب چوکی سے برآمد ہوئی جنہیں پاکستانی فوج نے ان کے آبائی علاقے جھاؤ کوٹوسے 20مئی 2016کو حراست میں لے کر لاپتہ کیا تھا جب ان کی لاش برآمد ہوئی تو انہیں بھی چیر پھاڑ کر تمام اعضاء نکالے جاچکے تھے اور اعضاء نکالے جانے کے بعد سینے کو دوبارہ ٹانکا لگاکر بند کردیا تھا۔


جھاؤ کے رہائشی لاپتہ رفیق ولد روزی کی چیر پھاڑکی گئی لاش 22فروری 2018 کو حب چوکی سے برآمد ہوئی

سیاسی کارکن مقبول بلوچ ولد نعمت اللہ سکنہ گومازی جنہیں 18فروری 2012فورسز نے گومازی سے تربت جاتے ہوئے لوکل گاڑی سے اور اخترولد غلام حیدر سکنہ مزن بند دشت کو 24اکتوبر 2012کو تربت بازار سے حراست میں لے کر لاپتہ کیاتھاان دونوں کی چھیرپھاڑکی گئی لاشیں18فروری 2013 کو کراچی کے علاقے سرجانی ٹاؤن سے برآمد ہوئے جن کے اعضا نکالے جاچکے تھے ۔


لاپتہ مقبول بلوچ اوراختربلوچ کی چیرپھاڑ کی گئی لاشیں جو کراچی سے برآمدہوئیں

یہ وہ واقعات ہیں کہ مقامی میڈیا میں رپورٹ ہوئے لیکن ہزاروں کی تعداد میں لاپتہ بلوچوں میں سے کتنے لوگوں کے ساتھ پاکستانی فوج و خفیہ ادارے ایسے بہیمانہ اور غیر انسانی عمل انجام دے رہے ہیں اس بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے۔

اس بارے میں ہم نے بلوچ نیشنل موومنٹ کے انفارمیشن سیکریٹری دل مراد بلوچ سے بات چیت کی تو ان کا کہنا تھا’’بلوچستان میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن دو دہائیوں سے اس میں بے پناہ اضافہ ہوچکاہے ہزاروں بلوچوں کی مسخ لاشیں سڑک کنارے،جنگلوں،ویرانوں میں پھینک دیئے گئے،ان میں واضح اکثریت بلوچ آزاد ی پسند سیاسی ورکروں کی ہے جنہیں غیرانسانی اذیت رسانی سے شہید کیاگیا اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے‘‘

دل مراد بلوچ نے مزید بتایا کہ ’’لاپتہ بلوچوں کے اعضا نکالنے کا پہلا واقعہ 2013کو منظر عام پر آیا جس میں پارٹی کے سینئر رہنما ماسٹر عبدالرحمٰن عارف اور زاہد بلوچ کے ساتھ یہ غیر انسانی عمل ہوا، اس کے بعدایسے کئی واقعات ہوچکے ہیں،کوئٹہ کے ہوٹلوں میں لاپتہ بلوچوں کے گوشت بکنے کے انسانیت سوز داستان تو بین الاقوامی میڈیا میں رپورٹ ہوئے،ہمیں ایسی معلومات ملی ہیں کہ پاکستان کے خفیہ ادارے لاپتہ بلوچوں کے اعضاء وسیع پیمانے بیچ رہے ہیں‘‘

دل مراد بلوچ کے مطابق ’’لاپتہ بلوچوں کے جسمانی اعضا نکالنے کے غیر انسانی عمل اب خوف و حراس پھیلانے سے بڑھ کر وسیع کاروباراورخطرناک شکل اختیار کرچکاہے، انسانی حقوق کے دعوے دار اداروں کا بنیادی فریضہ ہے کہ وہ اس غیر انسانی عمل کے خلاف اقدام اٹھائیں بصورت دیگر پاکستان اپنے اس غلیظ کاروبار میں مزید وسعت لائے گا۔‘‘