زامران فوجی آپریشن جاری ،خاتون حراست بعدلاپتہ ،علاقے میں متعددنئی چوکی قائم

زامران میں گزشتہ دون سے جاری آپریشن جاری ہے ،نامہ نگار کے مطابق یہ اس علاقے میں اب تک کی جانے والی سب بڑی آپریشن ہے جس میں فورسز بڑی تعداد بڑی حصہ ے لے رہے ہیں اور زمینی فوج کو گن شپ ہیلی کاپٹروں کی کمک حاصل ہے ۔

آپریشن کے پہلے دن یعنی سات فروری کو بلیدہ سے کسوئی زامران جانے والی بی بی مہرجان بنت عبدالکریم سکنہ الندور ان کے بھائی فداکو فوج نے حراست میں لے کر نامعلوم مقام منتقل کیا اور آج بی بی مہرجان کو زخمی حالت میں کسوئی باز ار میں لوگوں کے حوالے کیا ،ذرائع کے مطابق فوج کی تشددسے ان کی ایک ہاتھ ٹوٹ چکی ہے اور وہ انتہائی تشویشناک حالت میں ہیں جنہیں طبی امداد کے لئے ہسپتال منتقل کیا ہے جبکہ ان کا بھائی فوج کے حراست میں ہیں ۔

ذرائع کے مطابق فدا منحرف سرمچار ہے جس نے کچھ وقت پہلے تائب ہوکر سرنڈرکیاتھا ۔

اس آپریشن میں فوج تین اطراف تگران ،بلیدہ اور پروم سے زامران کے وسیع پہاڑی علاقے میں داخل ہوئے تھے آخری اطلاعات تک آپریشن جاری ہے اورآپریشن میں مصروف زمینی فوج کو گن شپ ہیلی کاپٹروں کی کمک حاصل ہے ۔

زامران کے تمام راستوں پر فوج کی سخت ناکہ بندی ہے اور کسی کوعلاقے میں جانے یا نکلنے کی اجازت نہیں ہے اس لئے آپریشن کے تمام تفصیلات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے ۔

علاقائی ذرائع سے حاصل معلومات کے مطابق فوج نے زامران مختلف علاقوں میں نئی چوکیاں قائم کی ہیں جن میں ایشوئی ،جالگی ،شزارے ڈن ،دشتک شامل ہیں ۔