پاکستان کبھی بھی مستحکم افغانستان نہیں چاہتا ہے۔ڈاکٹراللہ نذر بلوچ

بلوچستان لبریشن فرنٹ کے رہنما ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے افغانستان کی موجودہ صورت حال حوالے دی سنڈے گارڈین سے بات کرتے ہوئے کہا کہ زمانہ قدیم سے ہی پاکستان ایک مستحکم افغانستان نہیں چاہتا ہے۔

بلوچستان میں مقیم بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) کے سربراہ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے ”سنڈے گارڈین“ کو بتایا کہ یہ واضح ہے کہ پاکستان کبھی بھی مستحکم افغانستان نہیں چاہتا ہے۔ ان کے بقول، افغانستان میں زمینی صورتحال ویسے ہی ہے جیسے دوحہ معاہدے سے پہلے تھی۔

انہوں نے کہا کہ طالبان اب بھی اچھی طرح سے مسلح ہیں اور افغان افواج کے خلاف حملے کررہے ہیں۔ اس ہفتے، طالبان نے صوبہ ہلمند میں 41 سے زائد چیک پوسٹوں پر حملہ کیا جبکہ امریکی افواج نے بھی اسی طرح جوابی کارروائی کی۔ زمانہ قدیم سے ہی پاکستان ایک مستحکم افغانستان نہیں چاہتا ہے اور اسی وجہ سے صدر اشرف غنی نے طالبان کے سامنے یہ شرط رکھی ہے کہ وہ پہلے پاکستان سے اپنے تعلقات منقطع کردیں اور تب ہی افغانستان حکومت قیدیوں کو رہا کرنے کے بارے میں سوچ سکتی ہے۔

اطلاعات کے لئے ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے ذرائع کے حوالے سے بتایا،،000 16سے زائد طالبان جیل میں ہیں جن میں سے بہت سے سخت گیر ممبر ہیں نہ کہ عام زمینی کارکن