مغربی بلوچستان پربی این ایم کے موقف پرکنفیوژن کاالزام لگانے والے اپنی بے عملی پر پردہ ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں۔چیئرمین خلیل بلوچ   

 ”
بلوچ قوم کے لئے ہندوستان موزوں اتحادی بن سکتا ہے اور بلوچ ہندوستان کے ساتھ ایک بلاک کا حصہ بن سکتا ہے ” ۔  

سوال: بلوچ سیاست میں بی این ایم ایک بڑا نام ہے جو نہ صرف اپنی ایک پہچان رکھتا ہے بلکہ جدوجہد کو آگے بڑھانے میں نمایاں کردارادا کر رہا ہے۔ بہت سارے سیاسی دوستوں کی امیدیں بی این ایم سے وابستہ ہیں۔ اگر کوئی بی این ایم میں شمولیت اختیار کرنا چاہتا ہے تو اس کا طریقہ کار کیا ہے؟

جواب: بلوچ نیشنل موومنٹ میں ممبرشپ حاصل کرنے کا طریقہ کار آئین میں موجود ہے۔ کوئی بھی شخص بلوچ نیشنل موومنٹ کے پروگرام سے اتفاق رکھتا ہے اور ڈسپلن کا پابند ہوتا ہے اور کوئی بھی ایسی سرگرمی نہیں کرتا ہے جس سے قومی پارٹی بلوچ نیشنل موومنٹ کو نقصان پہنچے تو اسے پارٹی کے آئینی طریقہ کار کے مطابق متعلقہ یونٹ میں تین مہینے تک بحیثیت دوزواہ شامل کیا جاتا ہے۔ اگر اس تین مہینے کی مدت تک اس یونٹ یا زون کے ذمہ دار اس دوزواہ کے پارٹی پروگرام کے لئے کردار سے مطمئن ہوتے ہیں پارٹی اسے ممبر کا درجہ دیتا ہے اور اسے ممبرشپ کارڈ جاری کیا جاتا ہے۔ اگر خواہش مند شخص اس معیار پرپورا نہیں اترتا ہے تو بلوچ نیشنل موومنٹ اسے ممبر شپ نہیں دے سکتا۔ سرزمین یا سرزمین سے باہر، سبھی کے لئے شرط یہی ہے۔ خواہش مند شخص کے لئے پارٹی اساس اور پروگرام سے متفق ہونا لازمی ہے۔

سوال: بی این ایم کے ممبر کی حیثیت سے احتجاجی مظاہروں میں شمولیت کے علاوہ پارٹی پلیٹ فارم میں ہماری دیگر ذمہ داریاں کیا ہیں؟

چیئرمین خلیل بلوچ:۔ پارٹی ممبراورعہدیداروں کے لئے میرا کہنا یہی ہے کہ اپنی پارٹی پروگرام کو آگے بڑھائیں۔ وہ جہاں بھی ہوں پارٹی کے نمائندے ہیں۔ اُس علاقے میں، اس سماج میں جتنی ان کی رسائی ہے، وہاں وہ اپنی پروگرام کو لٹریچر کے ذریعے، سوشل میڈیا کے ذریعے، کارنر میٹنگز کے ذریعے پہنچائیں۔ ایک پارٹی ممبر کا کل وقتی کام یہی ہے کہ وہ بلوچستان میں ہو یا بلوچستان سے باہر دنیا کے کسی بھی خطے میں ہو، پارٹی پروگرام، پارٹی پالیسی اپنے لوگوں اور دنیا تک پہنچائیں۔ احتجاج موبلائزیشن کا صرف ایک ٹول ہے اوراحتجاج کو صرف ایک ٹول کے طورپر استعمال کریں لیکن یہ ہمارا کل وقتی کام نہیں ہونا چاہئے۔ دو،چار مہینے بعد صرف ایک احتجاجی مظاہرے میں شرکت تک ہماری ذمہ داریاں محدودنہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ پارٹی کارکنوں کی ذمہ داریاں اس سے قطعی زیادہ ہیں جو انہیں پورا کرنے ہیں۔ پارٹی میں یونٹ، زون اور ریجن، سینٹرل کمیٹی اورکابینہ کے ذمہ داریوں کا (تعین و) تشریح آئین میں موجود ہے، وہ کہیں بھی اپنی آئینی اختیارات کا استعمال کرسکتے ہیں۔ آئینی ذمہ داریوں پر کام کرسکتے ہیں لیکن وہ اپنے اختیارات سے تجاوز نہیں کرسکتے۔

سوال:۔ بلوچ قومی تحریک میں کچھ لوگوں یا پارٹیوں نے ایران سے متعلق اپنی موقف کسی حد تک واضح کیا ہے، لیکن کچھ پارٹیوں کی موقف سامنے نہیں آیا ہے۔ سوشل میڈیا میں ایران اورمغربی بلوچستان سے متعلق بی این ایم کے موقف پرتنقید ہو رہا ہے۔ ذمہ دار پارٹی کی حیثیت سے مغربی بلوچستان سے متعلق بی این ایم کا موقف کیا ہے؟

اور ایک اور بات کہ آج امریکہ اور ایران میں کشیدگی میں بلوچ کے مفادات کی تحفظ کس کی طرفدار ی یا ہمراہ داری میں ممکن ہے؟

چیئرمین خلیل بلوچ:۔ بی این ایم کے خلاف ایک منفی پروپیگنڈہ اور الزام ہے کہ ایران اور مغربی بلوچستان سے متعلق بی این ایم کنفیوژن کا شکار ہے۔ مغربی بلوچستان سے متعلق پارٹی پروگرام جوکہ پارٹی منشورکا حصہ ہے۔ اس میں پارٹی کا موقف واضح ہے۔ منشور کے شق نمبر دو اور شق نمبر تین اس بارے میں پارٹی کا موقف صاف واضح کرتے ہیں۔

ایک بات میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ پارٹی کا سب سے بڑا (سیاسی) گراؤنڈ پاکستان کے زیر قبضہ بلوچستان ہے کہ وہاں پارٹی دوستوں کی محنت، جانفشانی، قید و بند، قربانی اورشہادت سے پارٹی نے موبلائزیشن کا عمل طے کیا ہے۔ ان قربانیوں اورشہادتوں نے لوگوں کو موٹیویٹ کیا ہے اورایک ایسی فضا بنائی ہے کہ بلوچ کے لئے ایک مضبوط baseلئے ایک گراؤنڈ تشکیل پاچکا ہے۔  پارٹی اپنی زیادہ طاقت و قوت اور صلاحیتوں کو وہاں صرف کرتے ہیں جہاں انہیں اس کے لئے ایک میدان بن چکی ہے یا اس پہ کام ہوا ہے۔ قوم صرف لفاظی سے آزاد نہیں ہوتے ہیں۔ اگر کوئی بھی ایسے پروپیگنڈے آگے بڑھاتا ہے، اسے ہوا دیتا ہے یا ایسی منفی تاثر پھیلانے کی کوشش کرتا ہے وہ صرف اپنی بے عملی پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔ دوسروں پر الزام تراشی مسئلے کاحل نہیں۔ جدوجہد کے لئے ایک گراؤنڈ، ایک ٹیم ورک یا سیاست کے بنیادی تقاضے اورضروریات ہیں۔ انہیں تمام یا ان میں چند ایک کو آپ پورا کرسکیں تو آپ ایک جدوجہد کرسکتے ہیں۔

دوسری بات ایران اور امریکہ کے قضیئے میں ضروری نہیں کہ بلوچ کسی فریق کی ہمراہ داری کرے۔ خواہ وہ امریکہ ہو یا ایران، بلوچ اپنے قومی مفاد مقدم رکھتا ہے یا بلوچ کے قومی مفاد یا قومی کاز کو جہاں سے نقصان پہنچ رہا ہے یا ہماری زمین کسی کے خلاف غلط استعمال ہورہا ہے یہ کام خواہ کوئی بھی کرے، ماضی میں بلوچ سرزمین بلوچ کی منشا کے برخلاف استعمال ہوا ہے۔ بلوچ نے اس کی مخالفت کی ہے۔ بلوچ آئندہ بھی اپنے قومی مفاد کو سامنے رکھ کر ایسے معاملے پر اپنا موقف سامنے لائے گا۔ میرے خیال میں ایسے تنازعات میں ضروری نہیں کہ کسی ایک فریق کی ہمراہ داری کی جائے۔ بلوچ کی خالص قوم پرستانہ جدوجہد ہے اور قوم پرستانہ جدوجہد کے اپنے تقاضے اور ضروریات ہوتے ہیں۔ بلوچ نیشنل موومنٹ انہیں پورا کرنے کی کوشش کرتا ہے اور انشاء اللہ انہیں پورا کریں گے۔

حصہ دوئم

سوال:۔ آپ لوگوں کی جدوجہد قابل ستائش ہے۔ بلوچ اس پوزیشن میں ہے کہ ایک سے زائد محاذ کھول سکے۔ مثلاَ چین پہلے سے موجود ہے یا موجودہ صورت حال میں ایران، امریکہ کا مسئلہ ہے؟

چیئرمین خلیل بلوچ:۔ میں سمجھتا ہوں کہ زیادہ محاذ بیک وقت کھولنا بلوچ کے مفاد میں شاید نہ ہو۔ جیسا کہ آپ خطے میں امریکہ اور چین کے مفادات پر بات کررہے ہیں یا ایران کا تنازعہ ہے۔ خطے میں ان کے اپنے اپنے مفادات ہیں جنہیں وہ تحفظ دینا یا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ان میں کوئی بھی بلو چ کے مفاد سے ہم آہنگ نہیں ہوتا ہے یا بلوچ کے مفاد کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اس کے مقابلے کے لئے اگر بلوچ کوئی محاذ کھولتا ہے تو بحیثیت ایک قوم یا قومی تحریک کے اس کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ یہ ممکن ہے۔ اگر کسی کی مفاد ہماری قومی مفاد سے متصادم نہ ہوتو میں سمجھتا ہوں کہ یہ ضروری نہیں کہ ان حالات میں بلوچ ایک سے زائد محاذ کھولے۔

ہاں البتہ جیسا کہ کوئی چین کی طرح ہماری سرزمین پر یلغار کرتا ہے، یہاں لوگوں کو بیدخل کرتاہے، براہ راست یا دشمن کے ساتھ بلوچ نسل کشی کرتا ہے، وہاں بلوچ جس طرح پاکستا ن کے خلاف لڑ رہا ہے، اسی طرح چین کی توسیع پسندانہ اورجارحانہ پالیسیوں کی وجہ سے انہیں بھی اپنا دشمن سمجھتا ہے۔ تواس کا مطلب یہ ہے کہ اس کا فیصلہ وقت و حالات اور زمینی حقائق کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔ یہاں نہیں دیکھا جاتا ہے کہ چین بڑی طاقت ہے، اس کے خلاف محاذ کھولنے کے سود وزیاں کیا ہیں بلکہ یہاں یہ دیکھا جاتا ہے کہ کیا نئی محاذ کھولنا ناگزیر ہے۔ اگرناگزیر نہیں ہے تو میں سمجھتاہوں کہ شاید بلوچ کے مفاد میں نہ ہو۔

سوال:۔ ایک جانب امریکہ و اسرائیل دوسری جانب چین و روس اور دیگر ممالک ہیں۔ حال ہی میں مسلمان (جنرل سلیمانی) مارا جاتا ہے تواس جنگ امریکہ ایران (تنازعے) کو چین کے خلاف استعمال کرتا ہے یا پٹرول وگیس یا مذہبی جنگ ہوتا ہے، آپ اسے کس طرح دیکھتے ہیں؟

چیئرمین خلیل بلوچ:۔ میرے خیال میں مذاہب اور جنگوں کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ خواہ وہ کوئی بھی مذہب ہو۔ اور اس کا استعمال امریکہ کرے یا سعودی۔ یا اس خطے میں ہم دیکھیں، یہاں کوئی مذہب کو وہابی ازم کے خلاف ستعمال کرتا ہے کوئی شیعہ ازم کے خلاف استعمال کرتا ہے۔ لیکن جہاں بھی نیشنلزم کی جدوجہد رہی ہے یا نیشنلزم کی جڑیں مضبوط ہیں وہاں مذہبی منافرت کی کوششیں ہمیشہ ناکام رہی ہیں۔ خواہ امریکہ ہو، پاکستان ہو، سعودی ہو یا ایران یا اگر دنیا کا کوئی بھی ملک ہو وہ وہاں مذہبی منافرت کو مضبوط کرنے میں ناکام رہا ہے۔ جہاں بھی نیشنلزم کمزور رہی ہے وہاں مذہب بطور آلہ استعمال ہوئی ہے اورآئندہ بھی ہوگا۔

اس کا واحد حل یہی ہے اور ہم نے ہمیشہ اس بات پہ زور دی ہے کہ آج دنیا کو مذہب کے نام پر یا مذہبی انتہا پسندی کے نام پر بڑی دہشت کا سامنا ہے۔ اس میں مذہبی ریاستوں کے خالق ہوں، ان کے گاڈ فادر ہوں، مذہبی ریاست آج خود دنیا کے لئے عفریت بن چکے ہیں۔ اگر عالمی طاقتیں اس کی تشخیص کرتے ہیں اس کا سدباب کرتے ہیں، اپنی غلطیوں کا ادراک کرکے اس کاازالہ کرتے ہیں یا آگے اپنی غلطیوں کا اعادہ نہیں کرتے ہیں تو بڑی اچھی بات ہے۔ اس کا حل یہی ہے کہ قومی ریاستوں کوتسلیم کیا جائے اورانہیں تقویت دی جائے تو اس صورت میں اس عفریت کا علاج یا سدباب ممکن ہے۔ اس میں صرف امریکہ کو الزام دینا مسئلے کا حل نہیں بلکہ ایک موثر ہتھیار کے طورپر ہرمذہب نے اپنے وقت میں دنیا کے امن پر اسی طرح اثرات مرتب کئے ہیں جیسا کہ آج ہم اس خطے میں یا دنیا کے مختلف خطو ں میں دیکھ رہے ہیں کہ معصوم انسانوں کو قتل کیا جا رہا ہے یا اپنی جارحانہ پالیسیوں کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ اس کے ذمہ دار اور خالق ایک سے زائد ہیں۔ صرف ایک (فریق) کو مورد الزام ٹھہرانا مناسب نہیں ہوگا۔

علاقائی طاقتوں کا جائزہ لیں تو یہاں بھارت ایک معاشی و عسکری طاقت ہے۔ چین معاشی اور بڑی عسکری طاقت ہے اورامریکہ بھی خطے میں افغانستان، مشرق وسطیٰ اور خلیج میں موجود ہے لیکن خطے میں مقابلہ، محاذآرائی یا مفادات کی جنگ بھارت اور چین کے درمیان زیادہ نظر آتا ہے۔ بلوچ قوم کے لئے ہندوستان موزوں اتحادی بن سکتا ہے اور بلوچ ہندوستان کے ساتھ ایک بلاک کا حصہ بن سکتا ہے۔ اس لئے کہ ہندوستان بلوچ کے مفادات کو پائمال نہیں کر رہا ہے۔ چین اپنی توسیع پسندانہ پالیسیوں کے ساتھ بلوچ سرزمین پربلوچ نسل کشی میں پاکستان کے ساتھ برابر کا شریک ہے۔ اس لئے چین اپنی موجودہ پالیسیوں کے ساتھ ایک فطری اتحادی نہیں سکتا ہے۔

جہاں ہندوستان کی (موجودہ) شہریت کے بل کی بات ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ اس کی اثرات خطے اور خطے کی سیاست پر نہیں پڑسکتے ہیں۔ یہ ہندوستان کی اندرونی سیاسی مسئلہ ہے۔ یہ ایسا مسئلہ نہیں ہے کہ خطے کے لئے تشویشناک بات بن سکے یا کوئی یہ کہے کہ اس کی ادراک بلوچ کو نہیں ہے۔ میں اسے ایسی صورت حال نہیں سمجھتا ہوں۔

سوال:۔ موجودہ ناگفتہ بہ صورت حال میں بلوچ جہد کار کس طرح آپس میں مربوط ہوکراپنی سرگرمیاں جاری رکھ سکتے ہیں۔ اس ضمن میں بی این ایم کی پالیسی کیا ہے؟

چیئرمین خلیل بلوچ:۔ اکیسویں صدی میں بلوچ قومی سیاست میں سیاسی کارکن مختلف مراحل اور مختلف صورت حال کا مقابلہ کرچکے ہیں، حالات ہمیشہ بدلتے رہتے ہیں۔ یقینا بدلتے حالات کے تقاضوں کے مطابق جہدکار اپنی ساتھیوں یا اپنی قوم سے رابطہ کاری کے لئے ایک پالیسی، طریقہ کاروضع کرتا ہے۔ آج کے حالات میں ہم جانتے ہیں جہدکار کھلے عام سرگرمی نہیں کرسکتے یا روابط نہیں رکھ سکتے ہیں۔ مشکلات ضرور ہیں لیکن ٹیکنالوجی نے اتنی ترقی کی ہے یا آج سوشل میڈیا ایک ایسی وسیع مید ان بن چکا ہے کہ وہاں نہ صرف ساتھی آپس میں مربوط ہوسکتے ہیں بلکہ اس کے ساتھ ہی بدلتے حالات کے ساتھ ہم نے بلوچستان اور خلیج میں سیل سسٹم متعارف کرایا ہے تاکہ جہاں بلوچ آبادی زیادہ ہے یا دشمن نے Penetrateکیا ہے۔ وہاں کے مخصوص حالات میں آپسی رابطہ کاری یا تنظیم کاری میں آسانی ہو۔یقینا حالات اثرانداز ہوسکتے ہیں، محدود مدت کے لئے سرگرمیاں ماند پڑ سکتے ہیں لیکن یہ کیفیت مستقل نہیں ہوتا ہے۔ مشکلات پیدا ہوتے ہیں لیکن جدوجہد اپنی راہیں اپنے آپ پیدا کرتا ہے۔ پارٹی، پارٹی کیڈراپنی سوچ و فکر یا اپنی شعوری بالیدگی اور اپنی ساتھیوں کی مشاورت سے ایسی راستے تلاش کرتے ہیں اپنی ساتھیوں سے رابطہ کاری کرسکتے ہیں اور پارٹی وقتا فوقتا بدلتے حالات میں اپنی حکمت عملیاں تبدیل کرتا ہے اوراپنی فریضے کو آگے بڑھانے کی کوشش کرتاہے۔

سوال:۔ میڈیا کے استعمال کے لئے بی این ایم کا منصوبہ کیا ہے؟

چیئرمین خلیل بلوچ: کسی بھی قسم کی جدوجہد میں میڈیا کا کردار اہم ہوتا ہے۔ دوستوں کی تجزیہ اور مشورے سے میڈیا بلیک آؤٹ کے سدباب کے لئے یا مقابلہ کرنے کے لئے بلوچ نیشنل موومنٹ نے 2008 اور 2009 سے سنگر پبلی کیشن کی بنیاد رکھا اوراسے ایک تسلسل دے دی۔ دوستوں کی (اس کام میں) مہارت میں نشوونما کے باعث یہ کام آج تک جاری ہے۔ زرمبش پبلی کیشن ہے۔ وہ بھی میڈیا کا ایک حصے کی احاطہ کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ یا آج سوشل میڈیا کا دور ہے سینکڑوں کے حساب سے دوست ٹیوٹر یا فیس بک میں یا سوشل میڈیا کے دیگر ذرائع کے ذریعے پارٹی کا موقف اور پالیسی دنیا تک پہنچانے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ سینکڑوں ساتھی مختلف مراحل یا سرد وگرم سے گزر کر یورپ یا دیگر ممالک میں پہنچ چکے ہیں۔ وہ پارٹی سفیر کا کردار ادا کرسکتے ہیں۔ وہ وہاں کے مقامی باشندوں، سول سوسائٹی کو بلوچستان کے حالات، بلوچستان میں پاکستان کے جرائم سے باخبر رکھ سکتے ہیں یا اکیس ویں صدی میں بلوچستان کے لوگ کس طرح جی رہے ہیں یا کیسی کرب سے گزررہے ہیں۔

بلوچ نیشنل موومنٹ نے ہمیشہ اپنے کارکنوں پر زوردیا ہے کہ وہ میڈیا کو مثبت اورقومی مفاد کے لئے استعمال کریں اور قومی جدوجہد کو دنیا کے سامنے لانے کے لئے استعمال کریں۔

 میرے خیال میں آج اس خطے یا دنیا میں کہیں بھی تحریکوں کو دبانے یا کچلنے کی کوشش ہوتا ہے، وہاں سوشل میڈیا ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔  اس (قوموں کی دبی) آوا ز کو دنیا تک پہنچا سکتا ہے۔ ہماری کوشش بھی یہی ہے کہ میڈیا کے جتنے ذرائع ہیں ان پراپنی صلاحیت، وسائل کے مطابق پائیدار بنیادوں پرکام کرسکیں۔ دوست اس پر کام کررہے ہیں۔ میرا کہنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم نے تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا ہے۔ یہ وسیع میدان ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ جتنا زیادہ ہو سکتا ہے اسے(سوشل میڈیا) ہم قومی کاز کے لئے بروئے کارلائیں۔

نوٹ:۔بلوچ نیشنل موومنٹ کے چیئرمین خلیل بلوچ کا ریڈیو زرمبش کے پروگرام ”راجءِ دیمءَ“میں عوامی سوالات پر مبنی بلوچی زبان میں انٹرویو جو دوحصوں میں نشر ہوچکا ہے کا اردوترجمہ تحریری صورت میں شائع کیا جا رہا ہے۔
مورخہ 13جنوری 2020