حب چوکی سے لاپتہ غلام مصطفیٰ کے زندگی کو خطرات لاحق ہے – ماما قدیر بلوچ

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے حب چوکی سے جبری طور پر لاپتہ غلام مصطفیٰ کے بازیابی کی اپیل کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ انہیں ماورائے عدالت قتل کیا جاسکتا ہے۔

وی بی ایم پی کے رہنما نے بتایا کہ مشکے کے رہائشی غلام مصطفیٰ ولد محمد کریم کو 15 جنوری 2016 کو بلوچستان کے صنعتی شہر حب چوکی سے پاکستانی خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے جبری طور پر لاپتہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ غلام مصطفیٰ ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتا ہے جس کے باعث وہ حب چوکی میں محنت مزدوری کررہا تھا جبکہ اس کا کسی بھی تنظیم یا سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

ماما قدیر نے اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں خدشہ ہے کہ دیگر لاپتہ افراد کی طرح غلام مصطفیٰ کو ماورائے قانون یا دہشت گرد ظاہر کرکے قتل کیا جائے گا لہٰذا ہم اقوام متحدہ سمیت ملکی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ غلام مصطفیٰ کو بچانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

یاد رہے بلوچستان میں لاپتہ بلوچوں کے مسئلے نے اس وقت سنجیدہ شکل اختیار کرلی، جب سنہ 2009 سے ان لاپتہ افراد کی انتہائی تشدد زدہ اور مسخ شدہ لاشیں ملنا شروع ہوئیں، جو ہنوز جاری ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس انسانیت سوز عمل کو ” کِل اینڈ ڈمپ” یعنی مارو اور پھینکو کی پالیسی قرار دیکر اس کی شدید مذمت کی۔

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے مطابق لاپتہ افراد کی تعداد چالیس ہزار سے زائد ہے جبکہ کوئٹہ پریس کلب کے سامنے لاپتہ افراد کے لواحقین وی بی ایم پی کی قیادت میں کوئٹہ پریس کلب کے سامنے اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے احتجاج کررہے ہیں۔